پاکستانی معیشت اور تاریک مستقبل۔
ہمگام : اداریہ
اس سال پاکستان کی موجودہ حکومت کو 3۔9 بلین ڈالر قرضوں کی ادائیگی میں دینے ہونگے، اور پاکستان کی مرکزی بینک کے پاس زرمبادلہ صرف 2۔10بلین ڈالرز رہ گئے ہیں۔ اسے ضرور آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا۔آئی ایم ایف میں پاکستان کا کوٹہ زیادہ سے زیادہ 15 بلین ڈالر ہے، لیکن اس نے 5۔6 بلین ڈالر کا قرضہ پہلے ہی لیا ہے اب اس کے کوٹے میں 5۔7 بلین ڈالر رہ گئے ہے۔ اب اس سے پاکستان کیا کام چلا پائے گا ہے؟ برآمدات اور درآمدات کے درمیان پاکستان کا مالیاتی خسارہ 4 بلین ڈالر ہے۔ اپنی ایکسپورٹ کی استطاعت کو بڑھانے کیلئے پاکستان کی حکومت ڈالر کے مقابلے 8 فیصد اپنی کرنسی کو کم کرنے کے امکان پر سوچھے گا تاکہ امپورٹ کے خسارے کو کم کرے لیکن پاکستان کے لیے ایکسپورٹ کرنے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ سارے انڈسریز پنجاب میں لگے ہوئے ہیں، انکی زندگی کی انرجی کی تمام شریانیں بلوچستان ، پختونستان اور سندھ سے گرزتی ہیں۔ پنجابی آرمی کی وجہ سے ان تینوں قوموں کے دلوں میں پنجاب کے خلاف لاوا پک رہا ہے۔ اگر ان تینوں نے ملکر ان کی شہ رگوں کو کاٹ دیا تو پنجاب کیا خاک ایکسپورٹ کرے گی؟
ظاہر ہے ایک نئی حکومت آئی ہے، لاکھوں نوجوانوں کو نوکری کی امیدیں دی ہیں لیکن ان کے لیے مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ موجودہ حکومت ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے والے 850 بلین کی بجٹ کو کم کرکے 350 لاکھ رہا ہے، یعنی 500 ارب روپے کم کرکے 14 بلین ڈالر بچانے کی کوشش کرے گا لیکن اس سے معیشت کی ترقی رکھ جائے گی اور بے روزگاری مزید بڑھ جائیگی۔ دوسری آپشن یہ ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھائے لیکن عام عوام کا کمر تو اس ملک کے ناکام اور کرپٹ معاشی سسٹم نے پہلے ہی تھوڑ ڈالا ہے۔
دوسری طرف پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے والا مفت کا مال یعنی remittances بھی declined کرچکے ہیں۔ پاکستان کا دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بیچارہ پاکستانیوں کو نوکریاں بہت کم مل رہی ہے، پاکستان کو ماہانہ 2 ارب سالانہ 25 ارب ڈالر رمیٹنس کی شکل میں مل رہے ہیں ، یہ وہ مفت کا پیسہ ہے جس سے پاکستان کی معیشت کے پہیے چل رہے ہیں، ان میں اگر آدھا بھی کمی آجائے تو پاکستان کی معیشت بیٹھ جائے گی۔ پاکستان پہلے ہی گرے لسٹ میں آچکا ہے ۔ ایران کی دہشتگردی کی وجہ سے خلیجی ممالک کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ خلیجی ممالک اس حالت میں بھی نہیں کہ اب پاکستانیوں کی مدد کریں۔ سادہ الفاظ میں رمیٹنس remittances اُن پردیسی لوگوں کے پیسے ہیں جو پردیس سے اپنے فیملی اور رشتہ داروں کیلئے گھر کو پیسہ بیجھ دیتے ہیں۔ جو ڈالر کی شکل میں پاکستان کی مرکزی بینک میں جمع ہوتے ہیں، ان ڈالروں کے بدلے پاکستانی بینکیں ان پردیسیوں کے بچوں کو روپیہ دیتے ہیں۔
بلوچوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک میں کام کر رہی ہے۔ انکو اب یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ وہ جو پیسہ گھر بیجھ دیتے ہیں وہ ڈالر کی شکل میں جاتے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت کو تقویت ملتی ہے لیکن ان کے پیاروں رشتہ داروں اور قوم کے فرزندوں کو پاکستان کی فوج اٹھا کر غائب کردیتے ہیں۔ اسی انسانی نقطے کو لیکر بلوچ خلیجی کمپنیوں کو باور کرانے کی کوشش کرینگے اور بتائینگے کہ پاکستان بلوچوں کے ساتھ ظلم کر رہا ہے، لہذا آپ پاکستانیوں کو نوکری دینے سے گریز کریں کیونکہ انہی کے پیسوں سے بے لگام پاکستانی فوج روزانہ کی بنیا د پر بلوچوں کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔