چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںپاکستان: اقتصادی راہ داری پر کام کرنے والے 44 ملازمین ہلاک ہوئے

پاکستان: اقتصادی راہ داری پر کام کرنے والے 44 ملازمین ہلاک ہوئے

اسلام آباد(ہمگام نیوز)عسکریت پسند پاک چین اقتصادی راہ داری کی تعمیر میں ہر ممکنہ رکاوٹ حائل کرنا چاہتے ہیں۔ ابھی تک اس اقتصادی راہ داری پر کام کرنے والے چوالیس ملازمین ہلاک ہو چکے ہیں اور اس صورتحال سے چین حکومت بھی پریشان ہے۔پاک چین اقتصادی راہ داری ( سی پیک) کی تعمیر کے لیے چھیالیس ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔ سڑکوں کے جال، ریلوے اور توانائی کی پائپ لائنوں کے ذریعے مغربی چین کو گہرے پانیوں والی گوادر بندرگاہ سے ملایا جائے گا۔یہ اقتصادی راہ داری پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان سے گزرتی ہے اور اسی صوبے کے عسکریت پسند اس کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔پاکستانی فوج کی نگرانی میں کام کرنے والی تعمیراتی کپنی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ایک ترجمان کرنل ظفر اقبال کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام ملازمین پاکستانی تھے اور ان میں سے زیادہ تر سڑک کنارے نصب بموں یا پھر تعمیراتی سائٹس پر ہونے والے حملوں میں ہلاک ہوئے۔ان کا مزید کہنا تھا، ’’ بلوچستان مین سن 2014 کے بعد سے سڑکوں کی تعمیر کے دوران چوالیس ملازمین ہلاک جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے۔‘‘نومبر 2015 میں ہلاک ہونے والے ملازمین کی تعداد پچیس تھی لیکن موجودہ تعداد اس میں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ دوسری جانب اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چینی حکام نے بھی پاکستان سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز