گوادر(آئی این پی)معصوم اور بے گناہ مزدوروں کا قتل بدترین دہشت گردی ہے پہاڑوں پر جانے والی ہتھیارڈال کر تعمیری سوچ اپنا کر معاشرے خصوصاََ مُلک اور صوبے کی ترقی کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں میں نے کسی قسم کی دباوُ کے تحت نہیں بلکہ اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار پسنی کے معروف شاعر و ادیب انور صاحب خان نے گوادر میں صحافیوں سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا۔اُن کا کہنا تھا کہ اُن کا تعلق علم و ادب سے ہے اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے 2بلوچی کتابیں تخلیق کی ہیں 5فلموں میں اور 4اسٹیج ڈراموں میں کام کیا ۔اُنھوں نے کہا کہ میں نے انقلابی شاعری کی ہے جو میری بڑی غلطی تھی کیونکہ اس سے نوجوانوں میں غلط تاثرپیدا ہوا ،اُنھوں نے کہا وہ پاکستان کی استحکامت اور ترقی کے لئے کام کریں گیاُنھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ایف سی نے پسنی میں میرے گھر پر چھاپہ مارا مجھے اور میرے بیٹے کو گرفتار کی میرے بیٹے کا دہشت گردوں سے تعلق پایا گیا میں اپنے بیٹے اور دوسرے بگڑے ہوئے بچوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی اور معاشرے کی ترقی کے عمل میں شامل ہوجائیں کیونکہ اس وقت ہمارے وزیراعلٰی ڈاکٹر مالک بلوچ ہیں اُن کے قدامات سے صوبے میں انقلابی تبدیلی رونُما ہوئی ہے۔مستونگ اور کوئٹہ میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیاں بے گناہ اور معصوم مزدوروں کا قتل عام غیرانسانی عمل ہے۔بربادی کی طرف قدم بڑھانے والے ہتھیار پھینکر پاکستان اور بلوچستان کی ترقی میں کردار ادا کریں ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ مجھ پر کسی کا کوئی دباوُ نہیں ہے میں نے اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کیا ہے دوران قید ایف سی کا روئیہ انتہائی مشفقانہ تھا ۔کھانا صحیح اور وقت پر دیتے تھے اُنھوں نے کہا کہ صوبے خصوصاََضلع میں امن وامان کے حوالے سے ایف سی کا مثبت کرداررہا ہے۔


