ہمگام نیوز۔ آج جمعرات گیارہ جون کے روز اسلام آباد میں یورپی یونین کے پاکستان میں قائم مشن کے جاری کردہ ایک بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان سزائے موت پر پابندی عائد کر کے اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں اور وعدوں کو پورا کرے۔
وفاقی دارالحکومت میں یورپی یونین کے مشن کی خاتون ترجمان کیتھرین رے نے کہا، ’’پاکستان کے لیے یورپی یونین کی طرف سے ترجیحی تجارت (جی ایس پی) کاد رجہ بین الاقوامی کنونشنوں کے مؤثر نفاذ سے مشروط ہے۔‘‘
ترجمان کے مطابق پاکستان میں 2008ء سے سزائے موت پر عائد پابندی اٹھائے جانے کے بعد دسمبر 2014ء سے اب تک 150 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سزائے موت پر یہ بڑھتا ہوا عملدرآمد پاکستان میں انسانی حقوق کے ریکارڈ میں تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔
یورپی یونین کے مشن کی ترجمان نے آفتاب بہادر نامی مسیحی شہری کی پھانسی دیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کی اس درخواست کو بھی مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی جس کے مطابق وہ جرم کرتے وقت نابالغ تھا اور جرم کا اعتراف کروانے کے لیے اس پر تشدد بھی کیا گیا تھا۔
بیان کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ نے سزائے موت کے منتظر قیدی شفقت حسین کی اپیل بھی مسترد کردی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ارتکاب جرم کے وقت وہ بھی کم عمر ہی تھا۔
کیتھرین رے نے کہا کہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ اٹھارہ سال سے کم عمر میں کیے گئے جرائم پر کسی بھی مجرم کو پھانسی نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے مقدمات میں جہاں اس بات کے معقول شواہد موجود ہوں کہ ملزمان سے اعتراف جرم کرانے کے لیے تشدد کیا گیا تھا، وہاں فوری اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی ضرورت ہے۔


