کوئٹہ (ہمگام نیوز) بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ “پاکستان جیسے دہشت گردریاست کے سطحی اعلانات پر یقین کرنے کے بجائے عملی اقدامات ہی دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلاسکتے ہے ۔‘‘
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے پاکستان میں مذہبی دہشت گردوں پر پابندی کے اعلانات عالمی دباؤ میں کمی لانے کا حربہ اور عالمی برادری کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے جس کا مقصد مزید دہشت گردی ،خطے میں تباہی لانے کے لئے وقت حاصل کرناہے اگر بھارت سمیت عالمی برادری نے ان اعلانات پر یقین کرکے عملی اقدامات اٹھانے سے گریز کیا تو اس کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ دنیاپاکستان کو دہشت گردی کے نئے ہولناک سلسلو ں کے لئے موقع فراہم کررہاہے،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جیسے دہشت گردریاست کے سطحی اعلانات پر یقین کرنے کے بجائے عملی اقداما ت ہی دنیا کو دہشت گردی سے نجات دلاسکتے ہے ۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا دہشت گردی کی کاروائیاں چند گروہ یاتنظیموں کی کارستانیاں نہیں بلکہ پاکستان کا ریاستی پالیسی ہے جس سے وہ کسی بھی قیمت پردست بردار نہیں ہوگا ، پاکستان کی طرف سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے اعلان کوئی نئی بات نہیں ہے، پاکستان نے ماضی میں بھی عالمی برادری سے اس طرح کے وعدے کئے مگر عملی طور پران دہشت گردوں کو مزید منظم کیا گیا،ان میں نئی توانائی شامل کی گئی اوران تنظیموں نے نام بدل کر سرگرمیاں جاری رکھیں۔
انہوں نے کہا دہشت گرد پاکستان کے ریاستی اثاثے ہیں اوروہ انہیں اپنی غیر فطری وجود کے بقاء کے لئے محکوم قوموں اور خطے کے ممالک کے خلاف استعمال کرتا رہتا ہے ،پلوامہ واقعے کے بعد بھارت سمیت عالمی طاقتیں یہ سمجھتے ہیں پاکستان وقتی دباؤسے دہشت گردی سے باز آجائے گا تو وہ تاریخی غلطی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس کا خمیازہ بھارت سمیت پوری دنیا کو بھگتنا پڑے گا ،یہ دور کی بات نہیں بلکہ چند مہینے پہلے ہم نے راولپنڈی میں دیکھا کہ مذہبی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فوج بھیجی گئی مگر آرمی نے کھلے عام شدت پسندوں کو پیسہ اور کرایہ دیکر واپس کیا اور سر عام اعلان کیا کہ اپنے لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی۔
خلیل بلوچ نے کہا کہ آج انہی دہشت گردوں کو نام نہاد قومی دھارے میں شامل کرنے کی باتیں ہورہی ہیں دراصل پاکستان ایک طرف اس اعلان کے ذریعے ہزاروں مدرسوں اور دہشت گردی کے کیمپوں میں تربیت یافتہ دہشت گردوں کو باقاعدہ فوجی وردی پہنا کر تحفظ دے گااوردوسری طرف ان کے آقاؤں کو سیاسی دھارے میں لاکر وسائل اکٹھا کرنے ،ریکروٹمنٹ کرنے اور حدف حاصل کرنے کا وسیع موقع دے گا،پاکستان اندرونی تضادات ،بلوچ قومی تحریک آزادی کی شدت اور پشتون، سندھی و مہاجروں میں پیدا ہونے والی نفرت اور مزاحمت کی وجہ سے اپنے تاریخ کے بدترین مشکلات وتنہائی سے دوچارہے اورباقاعدہ جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتے ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان ا ن وعدوں کے ذریعے بھارت کے ساتھ براہ راست جنگ سے بچنے کی کوشش کررہاہے اور اس میں بظاہر کامیاب بھی ہورہاہے دنیا یاد رکھے کہ پاکستان کی اپنی چالبازی میں کامیابی پاکستان کے اندرمحکوم قوموں کے ساتھ ساتھ خطے اور دنیاکے لئے بدترین تباہی ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا بظاہر حصہ ہے لیکن اس جنگ کے نام پر حاصل ہونے والا بے پناہ وسائل اورجدید ہتھیار بلوچ کشی و دہشت گردی کے افزائش میں استعمال ہوتے رہے ہیں بلوچ قومی قیادت مسلسل دنیا کو انتباہ کرتاآیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ اصل منبع و مرکز ہے لیکن عالمی طاقتوں کی غیر مستقل پالیسیوں کوپاکستان نے نادر موقع کے طورپراستعمال کرکے دہشت گردوں کی جنت بن گیا ۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین نے کہا کہ بھارت سے براہ راست جنگ اورعالمی پابندیوں سے بچنے کے لئے پاکستان نے جیش محمد کے خلاف جس کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے وہ اس دباؤ کو کم کرنے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے اس کا نتیجہ بھی ماضی سے قطعامختلف نہیں ہوگا کیونکہ بلوچستان پر قبضہ برقرار رکھنے ،افغانستان میں بدامنی اور بھارت پر بار، بار حملوں کے لئے پاکستان اپنی دہشت گردریاستی فوج اور پراکسی دہشت گردتنظیموں کو استعمال کرتا رہے گا اور اس فوج کے سرپرستی میں سعودی فنڈ سے چلنے والے ہزاروں مدرسے اوردہشت گرد تربیتی کیمپ ہیں جنہیں خطے میں بدامنی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اورحالیہ سعودیہ کا بیس بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اس سلسلے کی ایک کھڑی ہے جس کے تباہ کن اثرات بلوچ سماج پر پڑیں گے مگر یہ خطہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔پاکستان کی اعلانات محض ایک ڈرامہ ہیں بلکہ دہشت گرد وردی پہن کر اپنے نظریہ کو اب وردی اور بندوق کے نوک پر پھیلانے میں آزاد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ چند عرصہ پہلے جب حافظ سعید کے بارے میں عالمی دباؤ بڑھ گیا تو اسے اپنے گھر میں نظر بند کیا گیا مگرجلد ہی رہا کیا گیا اوراقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دیئے جانے کے باوجود کھلے عام سرگرمیاں کرنے کی اجازت بھی دی گئی ۔ یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کا ایک ممبر ملک ہے مگردہشت گردی کے واضح سرپرستی کرنے کے باوجود پاکستان کو استثنیٰ حاصل ہے۔ اسی طرح کئی دفعہ امریکہ کی طرف سے بھی دباؤ کے بعد ان کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا گیا مگر عملی طور نہیں کچھ نہیں کیا گیا۔
چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے طول وعرض میں پاکستان ریاستی فورسزکے متوازی سینکڑوں ڈیتھ اسکواڈ قائم کرچکے ہیں ان کیمپوں میں فوج کے زیر نگرانی داعش ،لشکر جھنگوی العالمی،انصارشریعہ جیسے دہشت گردتنظیموں کوپناہ گاہیں اور سہولت فراہم کی جاتی ہے اور شفیق مینگل جیسے دہشت گردوں کی شکل شدت پسندوں کو سلیپر سیلز کی طرح خاموش رکھا گیا ہے۔بلوچستان کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس خفیہ اداروں کے کارڈ تھے جو واپس لئے گئے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی شفیق بعد میں لشکر جھنگوی کے نام سے شکار پور میں ایک شیعہ مسجد پر خودکش اورسیون و شاہ نورانی درگاہ پرحملے میں ملوث پایا گیا۔ غرض اس طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
بی این ایم کے چیئرمین نے کہا کہ بلوچستان میں دو دہائیوں سے جاری آزادی کی جد و جہد کو کچلنے کیلئے پاکستان نے ریگولر آرمی کے ساتھ انھی جہادیوں کو بھی بلوچستان میں پھیلا کر یہاں تباہی مچانے کے علاوہ ہمارے سماج میں مذہبی فرقہ واریت کا بیج بورہاہے ، بلوچستان بھر میں دہشت گردانہ واقعات اورعبادت گاہوں پرحملے کرکے بلوچوں کو شہید کیا اور آزادی سے فوجی کیمپوں میں جا بیٹھے یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔
انہوں نے کہا خطے میں دہشت گردی سے نجات کا واحد راستہ آزادبلوچستان سے ہو کر گزرتا ہے اب وقت آچکا ہے کہ بھارت سمیت عالمی دنیا اس حقیقت کا ادراک کرکے عملی اقدامات اٹھا ئے اگر وقتی دباؤسے نجات ممکن ہوتا تو لال قلعے پر، تاج محل ،پٹھان کوٹ جیسے واقعات کے بعد مزید دہشت گردی نہ ہوتی ،یہ واقعات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان دہشت گردی پرمبنی ریاستی پالیسی سے دست بردار نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کاواحد حل خطے میں بلوچ قوم سمیت محکوم قوموں کی آزادی کی حمایت میں مضمر ہے۔


