یکشنبه, مارچ 15, 2026
Homeخبریںپاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا، منی لاڈرنگ کا رسک ابھی...

پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا، منی لاڈرنگ کا رسک ابھی بھی موجود ہے ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکوس

پیرس (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایف اے ٹی ایف کے پلانیری اجلاس میں پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے مزید مانیٹرنگ کا حصہ رکھا جائے گا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 26 سفارشات کی تکمیل کرلی ہے لیکن اب بھی پاکستان کو دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں اور قانونی چارہ جوئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے جہاں پاکستان کو ملک میں قانونی نظام بہتر کرنے پر سراہا وہیں انھوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی رپورٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ادارے نے کافی سنجیدہ طرز کے مسائل کی نشاندہی کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان عالمی سطح پر ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا نہیں اتر پایا ہے۔

اس وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے باہر نکلنے کے لیے اسے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات لینے میں ناکام رہے ہوں۔

یاد رہے کہ اکتوبر 2020 میں ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 6 سفارشات پر عمل درآمد کو غیر اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے چار ایسے شعبوں کی نشاندہی کی تھی جس میں مزید کام درکار تھا اور اس کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کا اضافی وقت فراہم کیا گیا تھا۔ جس کے بعد فروری 2021 کے اجلاس میں ادارے نے تین سفارشات پر کام کرنے کو کہا تھا

جبکہ ایک روز پہلے شاہ محمود قریشی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے اب تک 27 سفارشات میں سے 26 مکمل کر لی ہیں اور ستائیسویں پر بھرپور کام جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنا ’نامناسب ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز