پنجشنبه, مارچ 12, 2026
Homeخبریںپنجگور: بارڈر یونین کی جانب سے ٹوکن سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پنجگور: بارڈر یونین کی جانب سے ٹوکن سسٹم کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پنجگور(ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان میں کھینچی گئی نام نہاد ایرانی بارڈر (گولڈ سمتھ لائن) کی بندش اور تیل بردار گاڑیوں کی ٹوکن سسٹم کے خلاف پنجگور میں آل پارٹیز کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرین نے کہا کہ “ایرانی بارڈر کی بندش کی وجہ سے وہ نان شبینہ کا محتاج ہوگئے ہیں۔ ایرانی تیل کی ترسیل سے لاکھوں لوگوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے اس پر پابندی نے ہزاروں گھروں کے چولہے بجھا دیئے ہیں۔”

انھوں نے ہاتھوں میں دو بڑے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ٹوکن سسٹم کے خلاف نعرے درجے تھے۔ ریلی کے شرکاء کے مطابق ٹوکن سسٹم بھتہ خوری کا نیا انداز ہے جو ہمیں منظور نہیں، سرکار مکران کا معاشی قتل بند کرے۔

مظاہرے سے ایک متاثرہ خاندان کی بچی نے بھی خطاب کیا۔ جس نے بے روزگاری کو ایک وبا سے تشبیہ دے کرک کہا کہ خدا اسے کسی کے گھر پر نازل نہ کرے۔

’ گھر کا سربراہ جب باہر روزگار کے لیے نکلتا ہے اور اسے روزگار نہیں ملتا ، گھر میں اس کے بچے اس کی راہ تھکتے ہیں ، وہ انتظار کر رہے ہوتے ہیں کہ جب وہ گھر لوٹے گے تو اس کے ہاتھ میں ان کے لیے کوئی چیز ہوگی لیکن جب وہ خالی ہاتھ لوٹتا ہے تو اس گھر میں مایوسی ڈیرے ڈال لیتی ہے۔‘

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ انھیں اس حد تک لاچار نہ کیا جائے کہ وہ چوری اور ڈکیتی کی طرف راغب ہوں۔ “سرکار کبھی کسی بہانے سے بارڈر کو بند کرتی ہے ، کبھی کہتی ہے کہ آپ کو راہداری ٹوکن دیا جائے گا۔ ہم باامر مجبوری تین تین مہینے تک فوجیوں کی گیٹ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ ہمیں ٹوکن دیں، لیکن ہمیں ٹوکن نہیں ملتا۔”

شرکاء نے کہا کہ ’سرکار! ہمیں روزگار دے اگر روزگار نہیں دے سکتی تو ہمارے روزگار بند نہ کرئے۔‘

انھوں نے انتباہ کیا کہ اگر ہمارے روزگار کے دروازے بند کیے گئے تو آل پارٹیز پورے پنجگور کو لے کر احتجاج کرئے گی جو سرکار کے لیے مشکل صورتحال ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز