کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نےاپنے جاری کیۓ گئے ایک بیان میں شہید پروفیسر ارمان لونی کی پولیس حراست میں قتل و شہادت کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہوۓ کہاکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے تحریکوں کو منظم ہونے سے نہیں روکا جا سکتاپشتون قوم کے باشعور فرزند آج جس طرح پشتون اقوام پر ریاستی جبر و ظلم کے خلاف منظم انداز میں جدوجہدکررہے ہیں یہ ان کا تاریخی اور شعوری فیصلہ ہے وہ اپنے اوپر ہونے والے غیر انسانی جبر کو محسوس کرچکے ہیں انہیں احساس ہوچکاہے کہ وہ کب تک محکومی تابعداری اور غلامی کی زندگی جیئے گے، خوف کے سایہ میں زندگی گزارنا بھی کونسی زندگی ہے ہمیں خوشی ہے کہ آج پشتون قوم میں قوم دوستی کی جزبات کی نشوو نما ہورہی ہیں ۔دنیاکے سارےمحکوم اور غلام اقوام کے دکھ درد اور تکالیف ایک ہے اگرچہ ہم جغرافیاٸی یا قومی بنیادوں پر الگ ہے لیکن ہمارے مقاصد اور نظریات میں یکسانیت ہےہم فطری اتحادی ہے ہمارے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا جارہاہے اس کا شکار بلوچ پشتون ،سندھی، مہاجر اور دیگر اقوام ہےہم سب ایک جبر کا شکار ہے بلوچ قوم کے ساتھ تو کٸی دہاٸیوں سے یہی سلوک کیا جارہاہے آج ہزاروں بلوچ لاپتہ ہے ہزاروں بلوچ شہید کٸے گٸے ہیں گھر اجھاڑ دیئے گٸے ہیں بلوچ پر امن سیاسی پارٹیوں کو پبلک میں جانے سے روکا گیاہے۔ میڈیا پر پابندی ہے جبکہ میڈیا کا بلیک آٶٹ بھی جاری ہے حتی کہ بلوچ ہونابھی جرم قرار دیا گیا ہے یہاں صرف ہمیں ووٹ دینےکا حق حاصل ہے باقی ہمارے کوٸی حقوق نہیں ترجمان نے کہاکہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنمإ کا قتل ایک المیہ ہے پر امن سیاسی تحریکوں کو جب خون سےنہلایا جا تا ہےتوکیا تحریکیں کمزور پڑتی ہےٕیا ان کی رفتار سست ہوتی ہےیہ ایک خام دلیل ہے جو امپریلسٹ کی فطرت ہے وہ ہمیشہ تحریکوں کو کچلنے کےلیئے یہی فار مولا آزماتاہے لیکن یہ ان کی ناکامی ہےایسی غیر معمولی صورتحال سےگزر کر تحریکیں مضبوط اور ناقابل شکست بن جاتے ہیں ترجمان نے کہاکہ دنیا بھر کے قوم دوست تحریکیں جو نیشنلزم کی بنیادوں پر منظم ہوتے ہیں ہم سب کے فکری زاویہ ایک ہے ہم ایک دوسرے کےساتھی ہے ہم دوست ہے ہم ایک دوسرے کے بازو ہےاور ہمیں یہی مثال قاٸم کرنا چاہیے ہمیں ایک دوسرے سے بیگانہ نہیں ہونا چاٸیے اگرچہ ہم جغرافیائی طورپر الگ الگ خطوں کے مالک ہےہماری زبان جدا تاریخ مختلف لیکن ہمارے احساسات جزبات اور نظریات میں فطری طور پر یکسانیت ہے کہ ہم سب ایک نظریہ اور ایک آدرش کےمالک ہے اگر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاٸیں بلوچ کا دکھ پشتون محسوس کریں اور پشتون پر ظلم کا احساس بلوچ کو ہو ہم ایک دوسرے کےلیئے آواز اٹھاٸیں ایک دوسرے کا آواز بنیں تو ہم جلد ہی اپنی منزل حاصل کرینگے یہی واحد سوچ ہےجو ہمیں ایک دوسرے کے قریب کرتاہیں ہمارے نظریات جزبات جغرافیائی حدود کے پابند نہیں ہوتے بلوچ ،پشتون، سندھی اور مہاجر سماج کی حالت زاردیکھا جاٸے تو ہم افتادگان خاک ہے ہمارے سماج کی حالت زار ایک دوسرے سےمختلف نہیں ہم مصلحتوں اور وفاداریوں کے ثبوت دیکر اپنے قوم کو کب تک غلامی کےبوسیدگیوں کےرحم و کرم پر چھوڑینگے۔ ارمانی لونی کا قتل محکوم قوموں کی تاریخ میں کوٸی نیا لمحہ نہیں نہ ہی یہ حادثہ یا اتفاق ہےیہ واقعات معمول کا حصہ ہے یہ روزانہ کے بنیاد پرہورہاہے وزیرستان میں کہی ارمان لونیوں کا قتل عام ہوا ہیں اور ارمانی لونی کا قتل بھی اسی ماس کلنگ سے جڑی ہوٸی ہیں فرق صرف یہ ہےکہ انہیں اندھیروں میں قتل کیا گیا اوراس کو دن کی روشنی میں شہید کیا گیا لیکن ایسے لہو بانجھ نہں ان کے لہو کی کھوکھ خالی نہیں پشتون مٹی اور پشتون نیشنلشزم کا وفادار کامریڈ ارمان اگرچہ آج کے بعد جسمانی طور پر ان جلسوں اور دھرنوں میں شریک نہیں ہو سکے گا لیکن انکی فکر اور روح ہر جلسہ ہر تحریک بلکہ انسانیت اور آزادی کےہر تحریک میں شریک ہوگا ترجمان نے کہاکہ خطے میں آباد اور محکوم ہمسایہ تحریکیں جو نیشنلزم کے بنیادوں پر منظم
ہورہےہیں معروضی حالات کا ادراک رکھتے ہوۓ ایک واحد پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ایک گرینڈ الاٸنس کی صورت میں جڑھ جاٸیں یکجہتی اور اتحاد ہماری مشترکہ بقاع کا ضامن ہے ترجمان نے کہاکہ ارمان لونی کی قربانی راٸیگاں نہیں قربانیاں تحریکوں کی تاریخی اور ساٸنسی وضاحت ہوتی ہے اگر ہم سمجھےکہ تحریکوں میں ایسےلمحات نہ آٸے ایسی تکليفٕ دہ صورتحال کا ہمیں سامنا نہ ہو تو پھر تحریکیں رک جاتی ہے جمود کا شکار ہوتی ہے بلوچ سالویشن فرنٹ ارمان لونی کو جدوجہد قربانی اور شہادت پر خراج تحسین پیش کرتی ہے ہم ان کے خاندان سے تعزیت نہیں کرینگے ایک جہد کار وطن دوست قوم دوست کی شہادت پر تعزیت کرنے سے ہزار گناہ بہتر ہے کہ ہم ان کے فکر کے بے چینی کے کرب کو محسوس کریں ان کی قربانی کی قدر کریں اور فکر کو مشعل راہ سمجھیں اور انہیں خراج تحسین پیش کریں یہی ہماری روایت ہو نا چاٸیے ان کےبہن اور ان کےخاندان کے حوصلے چلتن اور کوہ زرغون سےبھی بلند ہے ایک فرض شناس جہد کار جو اپنے مقصد کے حصول کے لیئے سنجیدہ شعوری اور فیصلہ کن لمحات کا انتخاب کرتاہے توپھر موت ان کے لے کوٸی اہمیت نہیں رکھتا مراعات اور حقوق کے لولی پاپ کے جھانسے سے نکل کر ایک اور دنیا جو محکوم اقوام کی آزادی، خوشحالی اور ترقی کی دنیا ہے جو منزل ہے.


