پیرس (ہمگام نیوز ڈیسک)دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے کی جانے والی عالمی سرگرمیوں کے نگران ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو مالی وسائل کی فراہمی روکنے کی پاکستان کی کوششوں کو ناکافی قرار دیا ہے۔
‘ایف اے ٹی ایف’ نے جمعے کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ اسے داعش، القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں سے لاحق خطرات کا مکمل ادراک ہے۔
ادارے کے مطابق پاکستان نے ‘ایف اے ٹی ایف’ کے ساتھ طے پانے والے ایکشن پلان پر تھوڑی پیش رفت کی ہے جس کے پیشِ نظر ادارہ پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ تیزی سے ایکشن پلان خصوصاً اس کے ان نکات پر عمل درآمد کرے جن کے لیے مئی 2019ء کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی تھی۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ، FATF رواں سال مئی میں دوبارہ ایکشن پلان کا جائرہ لے گی۔تفصیلات کے مطابق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا6 روزہ اجلاس آج ختم ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کی سمت کا تعین کیا گیا جس کے بعد ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایف اے ٹی ایف رواں سال مئی میں دوبارہ ایکشن پلان کا جائرہ لے گی۔واضح رہے پاکستان کی رپورٹ انٹر نیشنل کو آپریشن ریویو گروپ کے اجلاس میں پیش کی جاچکی ہے جس میں پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشتگردی کی معاونت روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات کو اجاگر کیاگیا ۔
ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر ریگولیشنز 2018میں ترامیم کی گئیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں عالمی مالیاتی نظام کی ساکھ، سیفٹی اور سیکیورٹی سے متعلق غور کیا گیا جبکہ آئی ایم ایف ، عالمی بینک ، اقوام متحدہ ، او ای سی ڈی ، مالیاتی انٹیلی جنس یونٹس ، علاقائی باڈٖیز اور دیگر تنظیموں نے بھی اپنی اپنی رپورٹس ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں پیش کیں۔
کہا گیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جماعت الدعوة کو کالعدم تنظیم قرار دینے کا فیصلہ پاکستان کانام گرے لسٹ سے نکالنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے جبکہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت روکنے کے ٹھوس اقدامات پر پاکستان کا نام گرے لسٹ سے نکالے جانے کا امکان تھا تاہم ایسا نہ ہو سکا۔خیال رہے گذشتہ روز پاکستان میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس میں نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد وفاقی حکومت نے جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو کالعدم تنظیمیں قرار دینے کا فیصلہ کیا تھا۔اجلاس میں جماعت الدعوة اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔’گرے لسٹ’ میں شمولیت کے بعد پاکستان نے ٹاسک فورس کو مذکورہ اہداف کے حصول کے لیے 26 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پیش کیا تھا جس پر پاکستان کو ستمبر 2019ء تک مکمل عمل کرنا ہے۔
اگر پاکستان اس ایکشن پلان پر مقررہ مدت میں عمل کرنے میں ناکام رہا تو ‘ایف اے ٹی ایف’ اسے ‘بلیک لسٹ’ کرسکتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اقتصادی پابندیوں اور بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جمعرات کو ختم ہونے والے چار روزہ جائزہ اجلاس کے دوران بھارت نے پاکستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی کا معاملہ اٹھایا تھا اور پلوامہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کو ‘بلیک لسٹ’ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔


