چین کا بلوچستان کے لوگوں سے برتاؤ دشمنوں جیسا ہے،
چین اور پاکستان بد معاش ،مجرم اور قبضہ گیر ریاستیں ہیں جو بلوچ قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں. بلوچ رہنما حیر بیار مری کاہندوستان کے مشہورو معروف اخبار ‘سنڈے گارڈین’ کو انٹرویو : اردو ترجمہ بمگام نیوز
انٹرویور :ابینندن مشرا
اشاعت : 6 اپریل 2019
فری بلوچستان موؤمنٹ کے سربراہ اور بلوچ قوم میں سب سے زیادہ مقبول اور مانے جانے والے رہنما حیر بیار مری نے سنڈے گارڈین سے بات چیت کی . حیربیارمری بلوچ قوم کے تجربہ کار لیڈر خیربخش مری کے صاحبزادے ہیں.
سوال:بلوچ آزادی کی تحریک اس وقت کس پوزیشن میں ہے؟ گراؤنڈ میں اس کی پوزیشن کیسی ہے، اگر غور کیا جائے اعلیٰ لیڈران زیادہ تر باہر بیٹھ کر قیادت کر رہے ہیں؟
جواب:بلوچ تحریک کم وسائل اور ہمسایہ ممالک کے سپورٹ کے بغیر چل رہا ہے بلوچ اپنی کھوئی ہوئی آزادی جسے 1948 کو سلب کیا گیا تھا کی بحالی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور اگر باہر سے قیادت کرنے کی بات ہے تو ہم بلوچ اور بلوچستان کے ہیں ہمیں پاکستان سے کچھ لینا دینا نہیں ہیں پاکستان نے آزادی پسند سیاسی پارٹیوں کیلئے سیاسی سرگرمیاں ناممکن بنا دی ہیں پاکستان نے اعلیٰ سیاسی رہنماؤں کو قتل اور اغواء کیا ہے جن میں نواب اکبرخان بگٹی، غلام محمد بلوچ، ڈاکٹر منان بلوچ، جلیل ریکی، اور ہزاروں دیگر جو سیاسی عمل سے وابستہ تھے.
پاکستان اپنی آخری زور لگا کر بلوچ لیڈر شپ کو ختم، بلوچ تحریک آزادی کو کمزور اور ختم کرنا چاہتا ہیں .
یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ بلوچ تحریک کی بقا کے لئے لیڈر شپ عارضی طور پر باہر بیٹھ کر جدوجہد جاری رکھیں اہم ہماری کامیابی ہے جسے ہم جہاں کہیں بھی بیٹھ کر حاصل کرلیں.
سوال :رپورٹس کے مطابق کچھ ہی سالوں کے اندر کئی یوں غیر مسلح بلوچ پاکستانی آرمی کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے ہیں آپ کے مطابق کتنے لوگ لاپتہ ہیں اور کیا اس طرح کا کوئی ذریعہ ہے جس سے آپ لوگ عالمی اداروں کے سامنے اپنے دعویٰ کی تصدیق کر سکیں؟
جواب:ہمارے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے اس پانچویں phase کے شروع سے لیکر آج تک 20،000 سے زائد بلوچ نوجوان، بوڑھے، عورتیں اور بچے فورسز کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کیئے گئے ہیں لاپتہ کرنے کا سلسلہ مشرف کے مارشل لاء کے نفاذ کے وقت سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے اور کچھ ہی لوگوں کو اس شرط پر بازیاب کیا گیا کہ وہ بلوچ تحریک میں دوبارہ شمولیت یا تحریک کو سپورٹ نہیں کرینگے .
بلوچستان ایک کم آبادی والا علاقہ ہے جہاں پاکستانی آرمی دیہاتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر سارے لوگوں کو اغواء کرتی ہیں . وہاں مواصلات کی بھی کمی ہے شہر تک لوگوں کی دسترس نہیں ہے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بلوچ انسانی حقوق کے تنظیموں کو آزادانہ اعداد وشمار یکجا کرنے کی اجازت بھی نہیں ہے اور بہت سے لوگ اس ڈر سے رپورٹ درج نہیں کرتے کہ ان کے گمشدہ پیاروں کو کئی ایجنسیاں کوئی نقصان نہ پہنچا دیں.
عالمی اداروں کے پاس لاپتہ افراد کے اعداد و شمار کو جاننے کے بہت سے ذرائع ہیں انہیں صرف ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بلوچستان بھیج کر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ ملاقات کرنا چاہیے لاپتہ افراد کے لواحقین آج بھی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں عالمی ادارے وہاں سے معلومات جمع کر سکتے ہیں اور اس کے بعد باقی علاقوں کا دورہ کریں.
جب تک پاکستانی قبضہ گیریت قائم ہے عالمی ادارے بھی وہاں صحیح تعداد میں لاپتہ افراد کی اعدادوشمار آزادانہ نہیں کر سکتے پاکستان کھبی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کے کیئے ہوئے مظالم دنیا کے سامنے آشکار ہو،
جب 2012 کو لاپتہ افراد کیلئے یو این کا ایک ورکنگ گروپ کوئٹہ آیا تھا تو اسے سرینا ہوٹل تک محدود کیا گیا انہیں جنگ زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کیلئے نہیں چھوڑا گیا.
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستانی آرمی وہی آرمی ہے جس نے جنگ عظیم دوئم کے بعد دہشت گردی کی واضح مثال قائم کی تھی جس نے لاکھوں بنگالی عورتوں کی عصمت دری کی تھی .
سوال : پاکستان کے مطابق ہندوستانی حکومت نے آزاد بلوچستان کی جدوجہد کیلئے بلوچوں کو اکسایا ہے پاکستان کے اس دعویٰ میں کتنی صداقت ہے؟
جواب :بلوچ تحریک آزادی کی ایک طویل تاریخ اور حیثیت ہے بلوچوں نے مغل، پرتگیز، دوسرے قبضہ گیروں سمیت برطانوی بادشاہت کے خلاف بھی جنگ کیا جب ہندوستان بھی طوق غلامی کو ختم کرنے کیلئے جدوجہد کر رہا تھا. 1840 کے سارت آف و نہفسک کے جنگوں میں مری بلوچوں نے برطانیہ کو بری طرح شکست دی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے بلوچ قبائل کو فوج میں بھرتی و غلہ سپلائی کرنے کو کہا تو مری قبیلے نے صاف انکار کر دیا تو اس دوران ان کے درمیان دو جنگیں ہوئی ایک جنگ گمبد 1917 اور جنگ حرب 1918 کو ہوا. کئی نقصان کھانے کے باوجود بلوچوں نے ہار نہیں مانا.
اسی وقت سیاسی جدوجہد بھی برطانیہ کے خلاف بلوچستان میں جاری تھا اس لیے بلوچ تحریک میں ہندوستان کا کوئی دخل نہیں تھا کہ وہ خود اپنی کھوئی ہوئی آزادی کو حاصل کرنے کے لیے قبضہ گیر کے خلاف جنگ میں مصروف تھے، پاکستانی دعوے کوئی بھی معنی نہیں رکھتے کیونکہ پاکستان ہر بار اپنی جنگی جرائم کو چھپانے کیلئے دوسروں پر الزام تراشی کرتا آرہا ہیں ۔
پاکستان نے خود 20،000 ہزار سے زائد بلوچ لاپتہ اور 6000 سے زائد بلوچوں کو قتل کیا ہے جن کا بیرونی دنیا کے ساتھ ایک تعلق بھی پاکستان اپنے عدالت میں ثابت نہیں کر سکا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچ جدوجہد اپنے زور بازو سے چل رہا ہے جسے کسی بھی ملک کی پشت پناہی حاصل نہیں ہے ۔
سوال :پاکستان سی پیک CPEC کی مثال دے کر کہتا ہے کہ ہم نے بلوچستان کو نظرانداز نہیں کیا ہے کیا سی پیک بلوچستان کے لوگوں کیلئے نقصان دہ یا فائدہ مند ہے؟
جواب :سی پیک بلوچستان کیلئے ایک قبضہ گیریت ہے جس کی توسط سے چین اپنے فوجی اثر و رسوخ کو بڑا رہا ہے پاکستان بلوچ سرزمین کا اصل قبضہ گیر ہے جس نے اپنے معاشی مفادات کیلئے بلوچ سرزمین کو چین کے حوالے کیا ہے کچھ رپورٹس کے مطابق چائنا 2048 کو گوادر میں بلوچوں کو مکمل اقلیت میں تبدیل کر دیگا. اور 2023 تک 50،0000 چائنیز کو گوادر میں آباد کیا جائے گا ۔
سی پیک بلوچوں کیلئے تباہی کا پروجیکٹ ہے نہ کہ خوشحالی کا. ایک بار چین نے گوادر میں قدم جما لیے جیونی اور سونمیانی میں نیول بیس بنا ڈالے گا یہ نہ صرف بلوچوں کیلئے بلکہ انڈیا، امریکہ اور یورپی ممالک کیلئے سیکورٹی خطرہ ثابت ہو گا
بلوچستان تزویراتی حوالے سے ایک بہت اہم خطہ ہے اگر اس بار ہمارے وطن میں چین نے پاؤں جما لیے تو وہ اپنی فوجی طاقت کو ساؤتھ ایشیا، مڈل ایسٹ اور آگے تک وسعت دے گا.
سوال : گزشتہ سال چائنیز سفارتخانے پر حملے میں پولیس کی جانب سے آپ ملزم نامزد کیئے گئے ہیں بلوچستان میں مختلف دیگر وارداتوں میں چائنیز کو نشانہ بنایا گیا ہے کیا بلوچ چین کو اپنا دشمن مانتے ہیں؟ اگر ہاں تو کیوں؟
جواب :یقیناً، چائنا پاکستان سے مل کر بلوچوں کے ساتھ دشمنوں جیسا رویہ اختیار کیا ہوا ہیں پاکستان جو بلوچ کا دشمن ہے چین اور پاکستان، بلوچستان پر پنجابی استعماریت کو طول دیکر اپنی معاشی مفادات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا نام نہاد پاکستان چین اکنامک کوریڈور CPEC کوئی معاشی یا ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک ملٹری پروجیکٹ ہے جس کی توسط سے چین بلوچ ساحل پر قبضہ اور سنٹرل ایشیا کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے
اور جہاں تک کراچی حملے میں مجھے نامزد کرنے کا تعلق ہے تو بہت سے خدشات ہیں، یہ الزامات ہیں جنہیں پاکستان بار بار دہراتا ہے میں ان الزامات کو مسترد کرتا ہوں اور میں پر زور کہتا ہوں کہ عالمی قوانین کے مطابق بلوچوں کو اپنے دفاع اور قبضہ گیریت کے خلاف مزاحمت کرنے کا مکمل حق ہے پاکستان اور چین بوگس، خونخوار اور قبضہ گیر ریاستیں ہیں جو بلوچ کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں پاکستان نے روز اول سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور غیر مسلح بلوچوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنایا.
سوال :وزیراعظم نریندر مودی نے بلوچ مسئلے پر پہلی بار 2016 میں بات کی. کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہندوستان گورنمنٹ کو بلوچ تحریک پر مزید موثر اقدامات لینے چاہیے؟
جواب :ہاں، مودی نے پہلی بار آزادی کے دن کی مناسبت سے تقریب میں بلوچستان کے مسئلے پر بات کیا مگر عملی طور پر دیکھنے کو کچھ نہیں ملا جس کی وجہ سے مودی کی سیاسی ساخت کو بلوچ کے سامنے کافی نقصان ہوا. مودی کے بیان کے بعد کئی سو بلوچوں کو مختلف علاقوں میں قتل کیا گیا اور انہیں ہندوستان کا ایجنٹ کہا گیا.
ہندوستان ایک بڑی ،جمہوری اور طاقتور ملک ہے یو این ممبر ممالک میں شامل ہے وہ بہت سے عالمی اداروں میں وجود رکھتا ہے اقوام متحدہ میں مودی گورنمنٹ کے دوران ہندوستان یو این انسانی حقوق کے قونصل میں شامل ہوا مگر آج تک بلوچستان پر ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی پہ سرکاری سطح پر یا انفرادی طور پر کچھ بھی نہیں کہا.
دوسری جانب پاکستان نے یو این میں کشمیر مسئلے پر ہندوستان کے خلاف کسی بھی موقع کو اپنے ہاتھوں جانے نہیں دیا. مودی گورنمنٹ کے دوران ہندوستان کے خلاف یو این میں پاکستان کی کشمیر حوالے لابنگ کی وجہ سے کئی سارے سرکاری رپورٹس پبلش ہوئے۔
ہندوستان کو پاکستان کے خلاف بلوچ موومنٹ کو سپورٹ کرنا چاہیے تھا مگر اب تک نیو دہلی کی اس حوالے سے کوئی سیاسی حکمت عملی نظر نہیں آ رہی. ہندوستان میں موجود کچھ سیاستدانوں کا آج بھی خیال یہی ہے کہ تجارتی تعلقات اور ثقافتی رشتوں کی بدولت ہو سکتا ہے پاکستان کے ساتھ انکے تعلقات مستقبل میں صحیح ہوں گے. امریکہ کے کروڑوں ڈالر دینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کے 3000 سے زائد فورسز کو افغانستان میں قتل کر کے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کیا. مجھے یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کچھ ملین کی تجارت کیسے ان سیاسی شخصیات کو یہ باور کرا سکتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انکے تعلق صحیح ہونگے جبکہ پاکستانی بنیاد سے انڈیا اور ہندؤں کو اپنا دشمن مانتے ہیں .
سوال : انڈین شہری کلبھوشن یادیو کو پاکستان نے بلوچستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا آپ اس خطے میں رہتے ہیں اور وہاں آپکے وسیع نیٹورک ہیں کلبھوشن کے حوالے سے آپکے پاس کیا معلومات ہیں؟
جواب :ہمارے معلومات کے مطابق کلبھوشن کو ایرانی مقبوضہ بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا جسے اسمگلروں اور ڈرگ مافیا نے پاکستان آرمی کے حوالے کر دیا تھا جو پاکستانی آرمی کیلئے کام کرتے ہیں یہ بھی دیکھنا چاہیےایک شخص کتنی آسانی سے پکڑا گیا اور بغیر کسی مشکلات کے پاکستانی مقبوضہ بلوچستان بھیجا گیا.


