چابھار(ہمگام نیوز)اتوار 11 آبان 1404 کی صبح تقریباً رات ایک بجے، ایرانی قابض افواج کے سپاہ پاسداران اور بنیاد مسکن کے اہلکاروں نے مقبوضہ بلوچستان کے ضلع چابهار کے کمب گاؤں (کلانتری 13 کے پیچھے، دوشنبه بازار کے قریب) پر اچانک حملہ کیا اور درجنوں بلوچ شہریوں کے مکانات مسمار کر دیے۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ کارروائی بغیر کسی پیشگی اطلاع یا انتباہ کے شروع کی گئی۔ مسلح اہلکاروں نے بھاری مشینری اور لوڈروں کے ذریعے 70 سے 80 گھروں کو تباہ کر دیا، جب کہ گھروں کے اندر اہلِ خانہ کے ساز و سامان موجود تھے۔
ایک بلوچ خاتون نے کہا:
> “میں اکیلی عورت ہوں، شوہر نہیں ہے، بچوں کے ساتھ بے گھر کر دی گئی ہوں۔ میرا بھائی بے روزگار ہے، ہم انتہائی ضرورت مند ہیں، مگر انہوں نے ہمارا گھر گرا دیا اور ہمیں آوارہ کر دیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔”
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس رات کے حملے میں خواتین اور بچوں کو نہ صرف خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑا بلکہ انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
بلوچ کارکنوں نے اس کارروائی کو ایرانی قابض حکومت کے ایک منظم منصوبے کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر قبضہ اور 20 ملین غیر بلوچ افراد کو لا کر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔


