Homeخبریںچابہار: ساحل رمین پر چٹانوں کے درمیان گرنے سے بلوچ شہری ڈوب...

چابہار: ساحل رمین پر چٹانوں کے درمیان گرنے سے بلوچ شہری ڈوب کر جاں بحق، 18 گھنٹے بعد لاش برآمد

چابہار (ہمگام نیوز) چابہار کے ساحلی علاقے رمین میں سمندر کی تیز لہروں کی زد میں آکر لاپتا ہونے والے بلوچ شہری محمد محتشمی کی لاش تقریباً 18 گھنٹے کی تلاش کے بعد مقامی افراد اور ہلال احمر کے اہلکاروں نے برآمد کرلی۔

رپورٹ کے مطابق، بدھ 14 اکتوبر 2026 کو چابہار کے ساحلی علاقے کلات رود، رمین میں چٹانوں کے درمیان گرنے کے بعد لاپتا ہونے والے بلوچ شہری کی لاش مل گئی۔

رپورٹ کے مطابق، جاں بحق شہری کی شناخت 27 سالہ محمد محتشمی (میربلوچ زہی) ولد شیردل کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع سرباز کے علاقے نسکند کے گاؤں کوش کے رہائشی تھے اور ایرانشہر میں مقیم تھے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق، محمد منگل 13 اکتوبر 2026 کی شام اپنی گاڑی کی چابی تلاش کرنے کے لیے ساحلی چٹانوں کے نیچے اترے تھے، جو وہاں گر گئی تھی۔ اسی دوران سمندر کی تیز لہروں اور پانی کے شدید بہاؤ کی زد میں آکر وہ پھنس گئے اور لاپتا ہوگئے۔

اطلاعات کے مطابق، لاپتا ہونے سے قبل انہوں نے اپنے قریبی رشتہ داروں سے رابطہ کرکے مدد طلب کی تھی، تاہم جب وہ موقع پر پہنچے تو محمد کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ بعد ازاں مقامی افراد اور ہلال احمر کے اہلکاروں نے تقریباً 18 گھنٹے تک تلاش جاری رکھی، جس کے بعد ان کی لاش برآمد ہوئی۔

بلوچ بچوں کی ڈوبنے سے اموات

بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکومنٹری نیٹ ورک کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 سے لے کر اب تک 9 بلوچ بچے اور نوعمر افراد ڈوبنے کے واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں سے تین بچے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بنائے گئے مقامی گڑھوں، جنہیں بلوچی زبان میں ’’ہوتگ‘‘ کہا جاتا ہے، میں گر کر

ڈوب گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز