چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںچند روز قبل قابض ایران نے ایک افغانی شہری سمیت 7 بلوچ...

چند روز قبل قابض ایران نے ایک افغانی شہری سمیت 7 بلوچ شہریوں کو پھانسی دے دی

تہران(ہمگام رپورٹ) گزشتہ دنوں قابض ایران نے ریاست کے مختلف جیلوں میں قید ایک افغانی سمیت سات بلوچ شہریوں کو پھانسی کی سزا دی ہے۔

متحدہ بلوچستان کے ایک وسیع حصے پر قابض ایران بلوچ قومی نسل کشی اور خطے پر اپنی قبضہ گیریت کو برقرار رکھنے کے لیئے مختلف ریاستی پالیسیاں اپنائے ہوئی ہے۔ ان میں ایک سب سے بڑی پالیسی پھانسیوں کے ذریعے سزائے موت ہے۔

گزشتہ سال 2021 میں قابض ایران نے مقبوضہ بلوچستان سمیت دیگر ایرانی شہروں میں مقید کم از کم 69 بلوچوں کو مختلف الزامات کے تحت پھانسی دی ہے۔ ان الزامات میں سرفہرست منشیات فروشی رہا ہےـ

واضح رہے کہ ایران اس پورے خطے میں منشیات کے کاروبار کے حوالے سے ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ علاقہ جہاں منشیات فروشی کی تمام راستے ایک دوسرے سے آکر ملتے ہیں، یہاں منشیات فروشی کا جو سب سے بڑا کاروباری ادارہ ہے وہ خود قابض ایران کی فوج ہے۔ اور یہ کاروبار فوج کے زیر سایہ اس وقت بہت سے ایرانی سرمایہ داروں نے سنبھالا ہوا ہے۔ جبکہ اس کے برعکس قابض ایرانی حکومت معمولی جرائم پیشہ افراد سمیت منشیات کے عادی لوگوں کو گرفتار کرکے انہیں میڈیا کے سامنے منشیات فروش ظاہر کرکے سزائے موت سناتی ہے تاکہ دنیا کے سامنے یہ پیغام جاسکے کہ ایرانی حکومت خطے میں منشیات کی روک تھام کیلئے اقدامات کررہی ہےـ

گزشتہ سال ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس کے مطابق منشیات کے کاروبار کے سبب ایرانی فوج کے اہلکاروں میں منشیات کے عادی افراد میں اصافہ ہورہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کے تقریباً 17 اہلکار منشیات کے عادی ہو چکے ہیں۔

ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں گزشتہ سال 50 سے زائد بلوچ شہریوں کو پھانسی دی جاچکی ہے جن میں سے ستر فیصد قیدیوں پر منشیات فروشی کا الزام تھا۔ اس پر بلوچ سیاسی و سماجی مبصرین کا کہنا تھا کہ یہ تمام افراد محض منشیات نوشی جیسے معمولی جرائم میں گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ ان میں اِکا دکا اگر کوئی منشیات کا کاروبار کرتا تھا تو وہ بھی قابض ایران کی خفیہ اشخاص سے جڑے منشیات فروش تھے جو چھوٹے سطح پر ایرانی آرمی کے نادیدہ قوتوں سے منشیات لے کر کاروبار کرتے تھے۔ جبکہ دوسری جانب ان پھانسی کی سزا پانے والوں میں وہ افراد بھی شامل تھے جو کہ منشیات فروشی سے تنگ آکر سیدھے راستے پر آنا چاہتے تھے جنہیں فوج یا بااثر قوتوں کی ایماء پر گرفتار کیا گیا۔

چند دن پہلے نصرآباد اور دزاپ جیلوں میں کم از کم سات بلوچ قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔ دزاپ جیل میں ایک افغان قیدی کو بھی پھانسی دی گئی تھی۔

بلوچ سیاسی کارکنوں کے مطابق 20 جنوری کو نصر آباد اور دزاپ جیلوں میں کم از کم آٹھ قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔

بتایا جاتا ہے کہ سات بلوچ قیدیوں اور ایک افغان قیدی کو نصر آباد اور دزاپ جیلوں میں پھانسی دی گئی۔

نصرآباد جیل میں پھانسی پانے والے قیدیوں کی شناخت محمد امین دہمردہ ولد سید محمد ساکن نصرآباد ،پرویز اکبری راد ولد حسین ساکن دزاپ اور “جمال الدین گورگیج ولد محمد رحیم ساکن نصرآباد کے ناموں سے ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ 5 دیگر قیدی جن کی شناخت “عبدالحمید اسماعیل زہی”، “دادشاہ سرانی” ولد حسین نمروز شہر سے، “عطا اللہ براہوئی” دزاپ سے، “مہر اللہ دہمردہ” جو کہ محراب شاہوزی ولد محمد گل کے نام سے جانا جاتا ہے، “حسین علی” شامل ہیں۔ ان میں افغانستان سے خمیر اور “خدانذر کاکڑ” بھی شامل ہیںـ

محمد امین، پرویز، جمال الدین، مہر اللہ، خدانذر اور عطا اللہ پر منشیات کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

عبدالحمید کو فوج اور حکومت کے ساتھ مسلح تصادم کے الزام میں اور ایک شہری کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی۔

بلوچ سیاسی کارکنوں کی 2021 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اب تک 50 بلوچ شہریوں کی پھانسیوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں، جن میں 30 مقدمات منشیات کے جرائم، 7 مقدمات قتل، 4 الزامات سے لاعلمی اور 2 مقدمات مسلح گروہوں کے ساتھ تعاون کے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز