کراچی (ہمگام نیوز ڈیسک) ماہرینِ نفسیات کے مطابق ڈپریشن کسی شخص کو بھی ہوسکتا ہے۔ اگر آپ کا روزمرہ کے کاموں میں دل نہیں لگتا، آپ بہت اداس، مایوس یا بیزار رہتے ہیں یا گھبراھٹ، بے چینی اور بے بسی کا شکار رہتے ہیں تو شاید آپ بھی ڈپریشن کا شکار ہیں۔
اگرچہ یہ بات کئی لوگ تسلیم نہیں کرتے، لیکن ڈپریشن بھی ایک باقاعدہ بیماری ہے۔ اس کی دیگر علامات میں ٹھیک سے نیند نہ آنا، بھوک نہ لگنا یا وزن میں کمی، فیصلہ کرنے میں مشکل پیش آنا، اور توجہ و یاداشت کی کمی جیسے مسائل بھی شامل ہیں یہاں تک کہ اس بیماری کا شکار لوگ اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچنے لگتے ہیں۔
اگر یہ کیفیت بہت دیر تک برقرار رہے تو انسان کو زندگی سے اکتاہٹ محسوس ہونے لگتی ہے جسے طبی اصطلاح میں ’کلینیکل ڈپریشن‘ کہتے ہیں۔ان کے علاوہ طبی ماہرین کی رائے میں جبڑوں اور سر میں درد، ہاضمے کی خرابی،چھڑ چھڑاپن سانس کے مسائل اور دیگر علامات سمیت ایسی شکایات بھی ہوسکتی ہیں جن کا بظاہر کسی بیماری سے کوئی تعلق نہیں۔’اس کے علاوہ اگر آپ کے مالی حالات اور اردگرد کا ماحول ناساز گار ہیں تو یہ بھی ذہنی تناؤ اور دباؤ کا باعث بنتا ہے، جس کی وجہ سے کوئی بھی شخص ڈپریشن محسوس کر سکتا ہے۔
سائیکاٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ بیماری ایسے لوگوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جو کہ کسی اور مہلک مرض، جیسے کہ کینسر، دل کے امراض یا کسی اور دائمی بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔
’ڈپریشن آپ کی روزمرہ زندگی کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ آپ کا بستر سے نکلنے کا دل نہیں کرتا، یا پھر آپ لوگوں سے ملنے ملانے سے کتراتے ہیں۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کے لیے استعمال کی جانی والی دوائیں بھی ڈپریشن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ ’بہت سے لوگ سٹیرائڈز استعمال کرتے ہیں جس سے ان کا موڈ تبدیل ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ ان کی وجہ سے زیادہ ہشاش بشاش محسوس کرتے ہیں جبکہ کئی لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر ڈپریشن کی نوعیت زیادہ نہیں اور آپ بہت زیادہ مسائل کا شکار نہیں ہیں تو اس صورت میں آپ اپنی خوراک ٹھیک رکھ کر، نیند پوری کرکے اور باقاعدگی سے ورزش کرکے خود بھی اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر ڈپریشن کی علامات میں شدت اتنی ہے کہ آپ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں یا گھر والے، دوست یا آس پاسں کے افراد کہہ رہے ہیں کہ آپ میں کوئی واضح تبدیلی آئی ہے تو اس کی صحیح تشخیص کے لیے آپ کو ماہر نفسیات کی مدد لینی چاہیے۔‘ہمارے معاشرے میں ڈپریشن اوراس کے علاج سے متعلق بہت توہمات پائی جاتی ہیں۔آپ کسی سے ذکر کریں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہیں یا اس کا علاج کروا رہے ہیں تو آپ کو اکثر یہ سننے کو ملتا ہے کہ ڈپریشن کوئی بیماری نہیں بلکہ کردار کی کمزوری ہے یا آپ کے گناہ و اعمال کا احساس ہے۔ جنرل فزیشن، ماہرِ نفسیاتی امراض، نفسیاتی امراض کا ڈاکٹر یا تھراپسٹ بھی ہو سکتا ہے۔ سائیکالوجسٹ عام طور پر سائیکوتھراپی، کونسلنگ یا سائیکالوجیکل سیشن سے علاج کرتے ہیں جبکہ سائیکاٹرسٹ کچھ مخصوص ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے دوائی تشخیص کرتے ہیں۔ عام طور پر ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں علاج ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔


