کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں علم ادب اور بلوچ دوست شخصیت کامریڈ عبد الواحد بلوچ کی اغواء نماء گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کامریڈ عبدالواحدایک متحرک سیاسی و سماجی شخص ہے ان کی حراستی گرفتاری سے نام نہاد جمہوریت کا پول کھل گیا ہے کہ یہان کوئی جمہوریت نہیں جمہوریت کا ڈھونگ رچاکر گمراہ کیا جارہاہے اور انسانی حقوق کی بد تریں خلاف ورزی کی جارہی ہے اور ریاست کو نہ کسی انسانی اقدار کی پرواہ ہے اور نہ کسی عالمی قوانین کو خاطر میں لایا جارہاہے بلکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو زرابھر بھی قانوں کی خلاف ورزی نہیں سمجھتے گزشتہ دنوں کامریڈ عبدالواحد کو کراچی سے حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیاکامریڈ اسی کے دہائی سے بلوچ ادب اور سیاست سے منسلک رہے ہیں اور وہ ہمیشہ بلوچ قوم کے آوازپرلبیک کہ کر کراچی میں پر امن احتجاجی ریلیوں مین اپنی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے بلوچ احتجاجی عمل کا ساتھ دیتے ہوئے پارٹی اور گروہی سوچ سے بالاتر ہوکر بلوچ عوام کے ساتھ ہم قدم رہے ایسے بلوچ دوست اور ادبی شخصیت کی حراستی گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست پر امن اور جمہوری جدوجہد کو بھی برداشت نہیں کررہے ہیں بلوچ قوم کے ادیبوں ،دانشورں اور ادب سے شغف رکھنے والوں کی حراستی گرفتاری کا تسلسل اس بات کا عندیہ ہے کہ ریاست کے لئے بلوچ قوم کا کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے ترجمان نے کہاکہ جو بھی بلوچ فرزند جن کا شعوری سیاسی علمی یا ادبی کردار اور سرگرمی بلوچ جدوجہد سے منسلک ہو ریاست ان کا راستہ روکنے روکنے کی کوشش کرتی ہے ان کی اظہار رائے کا حق چھینا جاتا ہے ان کی آواز کو سلب کیا جاتا ہے ان سے پر امن اور جمہوری احتجاج کا موقع بھی چھین لیا جاتا ہے اس سے قبل بھی کئی بلوچ دوست ادیبوں اور صحافیوں کو لاپتہ کیا گیا ہے یہ اولین سلسلہ نہیں بلکہ یہ نسل کش پالیسی جو بلوچ قوم کے ساتھ روا رکھا جارہاہے اس پالیسی کو اب مزید وسعت دیا جا رہاہے اس سے قبل بھی ہزاروں بلوچوں کی اغواء نما ء گرفتاری کا ایک طویل فہرست ہے ان کے ساتھ ناقابل بیان سلوک کیا جاتاہے اس طرح کی گرفتاریوں سے ریاست اپنی ہی بنائے گئے قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے اور بلوچ فرزندوں کو اپنی ہی عدالتوں سے ماورا ہوکر لاپتہ کیا جارہاہے ان لاپتہ بلوچوں کو سالون تک غائب اور شہید کرنے کے انسانیت سوز واقعات ک دوام کو دینے کے بجائے بلوچوں کو ریاست کم از کم اپنی عدالتوں میں پیش کرکے اخلاقی جرائت کا مظاہرہ کریں ترجمان نے کہاکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی ان معاملات پر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے حوالہ سے کردار کلیدی ہونا چاہیے لیکن وہ بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یہ انتہائی افسوس ناک پہلو ہے کہ بلوچستان میں انسانی بحران پیداکرنے والے پالیسیوں کے خلاف میڈیا سمیت تمام سیاسی سماجی اور انسان دوست ادارے بے پرواہ ہوگئے ان کے نظر میں بلوچ ہمدردی اور توجہ کے حقدار نہیں اقوام متحدہ بھی لاپروائی اور غیر زمہ داری کا مظاہرہ کرکے سنگین صورتحال کو مزید گھمبیر تا دیکھ کر کسی قسم کی مثبت اور عملی پیش رفت سے قاصر ہے بلوچ قوم کی نظریں عالمی برادری اور اور قوام متحدہ پر اٹھتی ہے کیونکہ انسانوں کی اس بستی میں عالمی برادری اور انسان دوست ادارے جو اپنی موجودگی کا ثبوت دیکر انسانوں کے حقوق کے پاسداری کے حوالہ سے دعویدار ہے بلوچ قوم عالمی ضمیر اور اقوام متحدہ کو اس وقت متوجہ کرتی رہی گی جب تک وہ بلوچ قومی مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا نہیں کرتے


