کراچی(ہمگام نیوزڈیسک) کراچی کے علاقے نیپا چورنگی کے قریب ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے اُن کے2 گارڈ جانبحق ہوگئے ،جبکہ وہ خود محفوظ رہے ۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں ملزمان نے 15 سے زائد گولیاں چلائی ہیں۔گاڑی میں مفتی تقی عثمانی کی اہلیہ اور دو پوتے بھی سوار تھے جو باحفاظت ہیں۔ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا ہے کہ یہ کراچی کا امن خراب کرنے کی کاروائی ہے۔ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے حملے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور پہلے آگے گئے اور پھر پیچھے مڑ کر ہم پر فائرنگ کی ۔ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی کے مطابق فائرنگ کا نشانہ بننے والی کالے رنگ کی سوک کار میں مولانا تقی عثمانی خود سوار تھے مگر واقعے میں محفوظ رہے۔ایس ایس پی طاہر نورانی کے مطابق کالے رنگ کی ہنڈا سوک کار کا ڈرائیور فائرنگ کے بعد فوراً ہی گاڑی کو لیاقت نیشنل ہسپتال لے گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کرولا کار میں سوار ایک پرائیوٹ گارڈ صنوبر خان جاں بحق جب کہ اس کے ساتھ موجود عامر شہاب شدید زخمی ہوئے۔کراچی میں فائرنگ کے اس واقع کی آصف زرداری اور وزیراعظم عمران نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہیں۔


