سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںکردستان، مہسا امینی کی قتل کیخلاف احتجاج چھٹے روز بھی جاری، ایرانی...

کردستان، مہسا امینی کی قتل کیخلاف احتجاج چھٹے روز بھی جاری، ایرانی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے مزید 7 مظاہرین مارے گئے جبکہ 44 زخمی، سینکڑوں گرفتار

سنندج (ہمگام نیوز) اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز 16 ستمبر کو حجاب نہ پہنے کے الزام میں قابض ایرانی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں تشدد اور بعد ہسپتال میں کوما کی حالت میں شہید ہونے والی کرد خاتون مہسا امینی کی قتل کے خلاف کردستان سمیت ایران بھر میں گزشتہ 6 دن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ـ

مظاہرین پر قابض ایرانی سیکورٹی فورسز اور پولیس کی جارحانہ اور پر تشدد رویہ سے کم سے کم مزید 7 مظاہرین مارے گئے جبکہ درجنوں زخمی اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے ـ

تفصیلات کے مطابق کردستان سمیت ایران بھر میں کرد خاتون مہسا امینی کی قتل کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر قابض ایرانی فورسز کی وحشیانہ تشدد سے ارومیا میں ایک احتجاجی بنام عبداللہ محمدپور جانبحق ہوگئے ـ جبکہ ایلام شہر سے اسپیشل فورسز کی فائرنگ سے محسن قیصری نامی نوجوان شہید ہوگیا، جبکہ ایلام سے مزید ایک اور کرد شہری کی شہادت کی اطلاع ہے اور ایک شہری کی زخمی ہونے کی خبریں آ رہی ہیں لیکن ابھی تک ان کی تصدیق نہ ہو سکی ـ
جبکہ اشنویہ/شینو سے تین اور مظاہرین کی شہادت کی اطلاع موصول ہوئی ہے ـ جن کے نام 16 سالہ امین معرفت، 21 سالہ میلان حقیقی اور 28 سالہ صدرالدین لیتانی کی شہادت کی اطلاع ہے ـ
ان تینوں مظاہرین کو گزشتہ شام اشونیہ میں احتجاج کے دوران قابض ایران حکومتی فورسز نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ـ

اس کے علاوہ کردستان کے ایک انسانی حقوق کی تنظیم ہنگاؤ کی رپورٹ کے مطابق اشونیہ میں قابض ایرانی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے 43 مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جنہیں اشنویہ کے خمینی ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جن میں 8 افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی گئی ہے ـ

دوسری جانب کرمانشاہ میں قابض ایرانی آرمی سپاہ پاسداران انقلاب کی براہ راست احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک 62 سالہ خاتون مینو مجیدی کی شہادت کی خبریں موصول ہو رہی ہیں ـ

دریں اثنا مہسا امینی کی قتل کے خلاف آج چھٹے روز میں کردستان سمیت ایران کے مختلف شہروں میں قابض ایرانی حکومت کے خلاف احتجاجات کا سلسلہ تاحال جاری ہے ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز