ماسکو (ہمگام نیوز ویب ڈیسک ) کردوں کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ آزادی کا مطالبہ کرے ، وہ آزادی کے مستحق ہیں کیونکہ وہ داعش کے خلاف صف اول میں پیش پیش تھے، انہوں نے اپنے زیرکنٹرول علاقوں میں جمہوریت کے تمام زریں اصولوں کی پابندی کی ہیں ، یہ بات روس میں سعودی عرب کے سفیر جناب رائد بن خالد قریملی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ انہوں نے کردوں کی آزادی اور خود مختاری کے مطالبے کے حمایت کرتے ہوئے تین ملکوں ترکی، عراق اور سوریا پر زوردیا کہ وہ کرد عوام کی امنگوں کا احترام کریں۔
ماسکو میں سعودی سفارت خانے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جناب رائد کا کہنا تھا کہ سوریا کو مذہبی اور نسلی گروہوں کو یہ اجازت دینا ہوگا کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔ سعودی سفیر نے عراق سوریا اور ترکی پر زور دیتے ہوے کہا کہ یہ ممالک کردوں کی خواہشات کا احترام کریں تاکہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں، ہم ان لوگوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ وہ اپنے ملک کے حاکم خود بن جائے ۔ ان کردوں نے کئی عرب مہاجرین کی مدد کی ہیں ۔
سعودی عرب کے سفیر جناب رائد کا مزید کہنا تھا کہ عراق اور شام کے بہ نسبت ترکی میں کردوں کی حالات بہت برا ہیں۔ ترکی میں کرد سب سے بڑی اقلیت ہے، وہ صدیوں سے ترکی کے جبر اور ظلم کے شکار چلے آرہے ہیں، ترکی ان کے ساتھ اپنے شہری کی برتاو نہیں کر رہا ہے۔ طیب رجب اردگان کی سربراہی میں جو حالات ترکی میں پیدا ہوئے ہیں ہم ان سے بہت پریشان ہیں۔ یہ نہیں ہے کہ ہم ہر جگہ آزادی کی حمایت کرتے ہیں، بلکہ کردوں کا قضیہ ایک اسپیشل کیس ہے اور یہ بھی نہیں کہ کرد اس خطے میں ایک بہت بڑی نسلی اقلیت ہے،بلکہ حقیقت یہی کہ وہ اس کے حقدار ہیں کیونکہ ان کی آزادی کی حمایت کرنے سے اس خطے کی تمام اقوام کو فائدہ ہوگا۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس خطے میں پہلی عالمی جنگ میں طاقت ور قوموں کے درمیاں سائکس پیکٹ کا جو معاہدہ ہوا The Sykes–Picot Agreement اس میں کردوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، اور ترک اپنے سرحدوں کو تعین کرنے میں کامیاب ہوے، یہ ایک تاریخی جبر ہے گزشتہ 100 سال سے یہ سارا خطہ عزاب میں مبتلا ہے۔


