پیرس(ہمگام نیوزڈیسک) کردستان کی سرکردہ آزادی پسند رہنما عبداللہ اوجلان کی غیرقانونی گرفتاری اور پس زندان و قید تنہائی میں رکھے جانے کے خلاف 14 کرد آزادی پسند انقلابی سپوتوں کی جانب سے فرانس کے شہر سٹراسبرگ میں غیرمعینہ مدت کے لیئے جاری بھوک ہڑتال 109ویں دن میں داخل ہوگیا ہے۔ یاد رہے کرد کارکن لیلا گوین نے 7نومبر 2018کو بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا ان کی اس اعلان کی حمایت میں ترکی میں مقید ہزاروں کرد سیاسی قیدیوں نے بھی بھوک ہڑتال میں ان کا ساتھ دیا۔ اس کے علاوہ ترکی، کردستان ، یورپ اور بین الاقوامی ممالک میں قیام پزیر کردوں نے عبداللہ اوجلان کی گرفتاری کے خلاف بڑے پیمانے پر بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔
فرانس میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ارکان کی حالت خستہ ہونا شروع ہوگیا ہے، ڈاکٹروں کے مطابق قوی مسئلہ بھوک ہڑتال کی وجہ سے بہت سے کارکن اپنی اعضا یا زندگی کھو سکتے ہیں، انہوں نے متنبع کیا اگر بھوک ہڑتال جاری رہی تو بہت سے مریضوں پر ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے لیکن بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے کرد مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مقصد سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ اپنے رہنما کی رہائی تک احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔ فرانس کی بھوک ہڑتالی کیمپ کے ارکان سے ملنے کے لئے پورے یورپ سے کرد لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کرد احتجاج کو روکنے کی بجائے اسے دوسرے ممالک میں وسعت دینے کا تہیہ کرچکے ہیں.


