واشنگٹن (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک کی رپورٹس کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے خارجہ تعلقات کمیٹی نے امریکی عوام اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھتے ہوئے کرد عوام کے خلاف ترک ریاست کی نسل کشی مہم کے درمیان کرد تحریک اور داعش کے مابین موازنہ پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تحریک اور داعش کے وحشیوں کے مابین موازنہ سے انکار کرتے ہیں۔ ہمارا جواب اس طرح ہے: مشرق وسطی میں چار کروڑ سے زیادہ کرد آباد ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر بیرونی طاقتوں نے انہیں چار استبدادی ریاستوں ایران ، عراق ، شام اور ترکی میں تقسیم کردیا جہاں ہماری تحریک شروع ہوئی۔
کئی سالوں سے کرد عوام نے اپنے حکمرانوں سے فقط ان بنیادی جمہوری حقوق کے مطالبے کیے تھے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتے ہیں: اپنی وجود کو برقرار رکھنے کا حق ، اپنی زبان بولنے کا حق ، اپنی ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ، آزاد اور مساوی شہری کی حیثیت سے سیاست میں حصہ لینے کا حق۔کردوں کو ہربار بے دردی سے محکوم کردیا گیا ان پر جدید ہتھیاروں سے بمباری کی گئی ، ہمارے لوگ آدھی رات گھروں سے اٹھائے گئے اور لاپتہ کردیے گئے ،بغیر کسی قانونی وجہ کے جیلوں میں ڈال دیے گئے اور شدید تشدد کا نشانہ بنائے گئے ، انکے گاؤں کے گاؤں مسمار کیے گئے اور ان کی زبان اور ثقافت پر پابندی عائد کی گئی۔ کرد عوام کے خلاف ترک ریاست کے تشدد کو روکنے کیلئے 1978 میں ہم نے پی کے کے کی مزاحمتی تحریک کی بنیاد رکھی ، ترک ریاست نے پہلے ہی ترکی کے کرد علاقوں میں سینکڑوں ہزاروں کردوں کا قتل عام کیا تھا۔ ہمیں ان کی بربریت کو جاننے کیلئے زیادہ پیچھے نہیں جانا چاہیے 90 کی دہائی میں ترک ریاست نے 4 ہزار کرد دیہات تباہ کردیئے اور 17 ہزار کردوں کو ماورائے عدالت قتل کردیا۔
جس طرح تاریخ میں ظالموں کا وطیرہ رہا ہے ، عین اسی طر ح ترک رہنماؤں کا خیال تھا کہ وہ تشدد اور دہشت گردی سے آزادانہ زندگی کی بنیادی خواہش کو کچل سکتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں دہشت گرد اور مجرم قرار دیا اور سینکڑوں لاکھوں ڈالر خرچ کر کے امریکہ جیسے دوسرے ممالک کو بھی شہ دیتے رہے کہ وہ ایسا کریں، یہاں تک کہ ان کی افواج نے بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناقابل بیان مظالم کا ارتکاب کیا۔ ہم نے جنیوا کنونشنوں پر دستخط کیے اور 1993 سے مختلف مواقع پر امن مذاکرات کا مطالبہ کیا ، یہ جانتے ہوئے کہ جنگ ہماری ان حقوق کو بھی ختم ہونے کی حد تک متاثر کرے گا جو کردوں کو میسر ہیں، مگر ہماری ان تمام کوششوں کو نظر انداز کردیا گیا۔
پی کے کے نے کبھی بھی امریکہ یا کسی دوسرے ملک کو نشانہ نہیں بنایا۔ ہم اس تنازعہ کو پرامن اور سیاسی طور پر حل کرنے کے لئے کبھی بھی مذاکرات کی میز سے پیچھے نہیں ہٹے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے 1993 سے اب تک آٹھ مرتبہ سے زیادہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاکہ پرامن سیاسی حل کیلیے مذاکرات کی راہ ہموار ہوسکے ۔ پی کے کے کی سیاسی پروجکٹ اور اسکا اساس انسانی حقوق اور آزادی، صنفی آزادی ، مذہبی رواداری اور ماحولیاتی حقوق پر قائم ہے۔ جب داعش نے شام اور عراق میں اپنی دہشت گردی کی مہم کا آغاز کیا تو ہم جانتے تھے کہ ہمیں جواب دینا ہوگا۔ اس گروپ نے نہ صرف ان نظریات کو دھمکی دی تھی جن کے دفاع کے لئے ہم نے کئی سال جدوجہد کی ہے بلکہ لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگ چکی تھیں۔ اس خطے میں اچھی طرح سے مسلح اور دولت سے مالامال ریاستیں اور دنیا کے طاقت ور ممالک بھاری قیمت چکانے کے پیش نظر جواب دینے میں سست روی کا مظاہرہ کر رہی تھیں جس کی وجہ سے لاکھوں افراد شدت پسندوں کے لقمہ اجل بن گئے۔
اگست 2014 میں ، ہم نے عراق کے شہر سنجر میں ایک انسانی ہمدردی کی مہم چلائی جہاں داعش یزیدی برادری کے خلاف مظالم کررہی تھی جسے بعد میں اقوام متحدہ نے نسل کشی تسلیم کیا تھا۔ یزیدیوں کو دنیا نے بے یار ومددگار چھوڑ دیا تھا ، ان کو ایک ایسے دشمن کا سامناتھا جن کو اس وقت تک علاقائی طاقتیں روکنے میں ناکام رہی تھیں۔ ہم نے جو پہلا فوجی یونٹ اس خطے کو روانہ کیا تھا صرف سات افراد پر مشتمل تھا۔ابتداء سے ہی ہم شمال مشرقی شام کے لئے ایک انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے میں کامیاب ہوگئے جس سے 35 ہزار شہری جو سنجار کے پہاڑ پر محاصرہ میں تھے کو بحفاظت محفوظ مقامات تک پہنچا دیا گیا۔ ہم خطے کو داعش کے کنٹرول سے آزاد کروانے کے لئے دوسری قوتوں کے ساتھ شامل ہوئے۔
چونکہ ہماری تحریک اور ہمارے عوام نے اس لڑائی میں ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ، ترک ریاست جو ہمیں “دہشت گرد” کہتی ہے نے داعش کے شدت پسندوں کو روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا جو پوری دنیا میں بے گناہ شہریوں کو دہشت زدہ کررہے تھے۔ ترکی کی ریاست نے آج کے دن شمال مشرقی شام پر ان کے مقابلے میں کہیں زیادہ غیض وغضب کے ساتھ حملہ کیا ہے جب داعش نے اپنی سرحد پار سے ہی علاقے سے بین الاقوامی حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ انہوں نے القاعدہ سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کو داعش کو شکست دینے والے افراد پر تشدد اور قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ وہ کردش شناخت کی سادہ لوحی کو ان گروہوں سے کہیں زیادہ خطرےکے طور پر دیکھتے ہیں جنہوں نے نہ صرف سنجار اور کوبانی بلکہ پیرس مانچسٹر اور نیو یارک جیسے شہروں میں بے گناہوں کو نشانہ بنایا۔
بہت سارے امریکیوں نے مئی 2017 میں دیکھا تھا کہ کس طرح ترک صدر اردگان نے اپنے محافظوں کو آپ کے دارالحکومت میں پرامن کرد مظاہرین پر بے دردی سے حملہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ذرا تصور کریں کہ وہ کردستان میں کیا کرتے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے مجرم نہیں ہیں۔ ہم ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ہاں البتہ ہم اپنے لوگوں کا دفاع کرنے کے مجرم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ امریکی عوام خود ہی فیصلہ کرسکیں گے کہ اس دنیا کے خطرناک دہشت گرد کون ہیں۔


