سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںکروڑوں روپے تاوان ادا نہ کرنے پر آئی ایس آئی نے راجن...

کروڑوں روپے تاوان ادا نہ کرنے پر آئی ایس آئی نے راجن پور سے جبری طور پر گمشدہ لوگوں کو مسلح مزاحمت کار ظاہر کیا ہے:BRP

جنیوا(ہمگام نیوز) بلوچ ریپبلکن پارٹی کے مرکزی ترجمان شیر محمد بگٹی نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ راجن پور سے عام بلوچوں کو گرفتار کر کے انہیں مسلح تنظیم کا ارکان قرار دینے کے عمل کی مزمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن افراد کو ریاستی فورسز نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے در اصل وہ لوگ گزشتہ نو مہینے سے فورسز کے حراست میں تھے

شیر محمد بگٹی نے کہا ہے کہ حسین بخش ولد پیر بخش مزاری کو ان کے بیٹے رحم علی مزاری ہمرہ نو مہینے قبل ضلع راجن پور کے علاقے عمر کوٹ میں ان کے گھر سے فورسز کے اہلکاروں نے اٹھا کر لاپتہ کردیا تھا جبکہ نبی بخش مزاری کے دو بیٹوں بالاچ اور مجاہد کو بھی نو ماہ قبل راجن پور کے علاقے واہ ماجکا میں ان کے گھر سے رینجرز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کردیا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ منظر عام پر لائے گئے افراد مزاری قبیلے کے ڈیہوانی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے اغوا کے بعد آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے ان کی بازیابی کیلئے فی کس ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا مگر غربت کے مارے یہ لوگ آئی ایس آئی کے ان مطالبات کو پورا نہیں کر سکے جس کے بعد گزشتہ روز راجن پور کے علاقے عمر کوٹ سے ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں مسلح تنظیم کا ممبر ظاہر کیا گیا ہے اور نواب براہمدغ سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

بی آر پی کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے یہ حربے بہت پرانے ہیں خفیہ اداروں کے لوگوں نے جبری گمشدگیوں کو باقائدہ طور پر زریعہ کاروبار بنا رکھا ہے عام لوگوں کو اٹھا کر ان پر مسلح تنظیموں کے ممبر ہونے کے الزامات لگاتے ہیں اور پھر کروڑوں روپے تاوان وصول کرتے ہیں جو لوگ تاوان ادا نہیں کر پاتے پھر یا تو انہیں قتل کر دیتے ہیں یا پھر من گھڑت الزامات لگا کر میڈیا میں داد وصول کرتے ہیں۔

انھونے مزید کہا ہے کہ بی آر پی ملکی اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے انسانی جانوں کی قیمت پر کاروبار کو روکنے کیلئے اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز