Homeخبریںکنرک: بیر گاؤں کے ایک اسکول میں مسلح حملہ، فاطمیون ملیشیا کے...

کنرک: بیر گاؤں کے ایک اسکول میں مسلح حملہ، فاطمیون ملیشیا کے 7 اہلکار ہلاک، متعدد زخمی

کنرک (ہمگام نیوز) اطلاع کے مطابق گزشتہ روز ایرانی مقبوضہ کے بلوچستان کے شہر کنرک کے علاقے کہیر کے گاؤں بیر میں ایک اسکول پر مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں فاطمیون ملیشیا سے وابستہ 7 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بروز پیر، 2 نومبر 2026 کو کنرک کے علاقے کہیر کے نواحی گاؤں بیر میں واقع بیر سفلی اسکول پر مسلح افراد نے حملہ کیا۔ اس اسکول میں افغان فاطمیون ملیشیا سے وابستہ اہلکار تعینات تھے۔

ذرائع کے مطابق، شام تقریباً چار بجے دو موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد گاؤں بیر میں داخل ہوئے اور اسکول میں تعینات اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کردی۔ اس حملے میں سات اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو تین ایمبولینسوں کے ذریعے چابہار اور ایرانشہر کے طبی مراکز میں منتقل کیا گیا۔ فائرنگ شروع ہونے کے بعد ایک مسافر گاڑی بھی موٹر سائیکلوں کے پیچھے جائے وقوعہ پر پہنچی، جس کے بعد حملہ آوروں اور اسکول میں تعینات اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

واقعے کے دوران بسیج فورس اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ مقامی اہلکار بھی اپنے تعیناتی مراکز سے نکل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے جائے وقوعہ کے اطراف پہنچ گئے۔

ذرائع کو موصول ہونے والی اطلاعات، تصاویر اور ویڈیوز کے مطابق، فائرنگ کے تبادلے میں ایک مسلح حملہ آور بھی ہلاک ہوا، جس کی لاش فوجی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی اس جھڑپ کی تصدیق کی ہے، تاہم اب تک ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی شناخت اور دیگر تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

تاحال کسی بھی مسلح تنظیم نے ایران کی حمایت یافتہ افغان فاطمیون ملیشیا کے اہلکاروں پر ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول ن

ہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز