سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںکوئٹہ:کچلاک دھماکہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت الللہ کے بھائی حمدالللہ...

کوئٹہ:کچلاک دھماکہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت الللہ کے بھائی حمدالللہ ہلاک2بھتیجے1بیٹا زخمی

کوئٹہ (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوزڈیسک رپورٹس کے مطابق برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے رپورٹر سکندر کرمانی کا کہنا ہے کہ آج کچلاک میں جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے اس میں تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے بھائی حافظ احمد اللہ جان بحق ، ان کا ایک صاحبزادہ اور 2 بھتیجے زخمی ہوئے ہیں، امکان ظاہر کیا جارہاتھاکہ اس مسجد میں جمعہ کے وقت ملا ہیبت اللہ نے آنا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے پاکستان اور افغانستان کیلئے نمائندے سکندر کرمانی نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ طالبان ذرائع نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ جمعہ کے روز کچلاک کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملاہیبت اللہ کے بھائی جاں بحق ہوئے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ مارے جانے والے حافظ احمد اللہ اسی مسجد کے امام تھے جس میں دھماکہ ہوا ہے۔سکندر کرمانی کے مطابق 2016 میں طالبان کی امارت سنبھالنے سے پہلے ملا ہیبت اللہ بھی کچلاک کے علاقے میں مقیم تھے اور اسی مسجد میں امامت کرتے تھے جس میں جمعہ کو دھماکہ ہوا ہے۔

عینی شاہدین کے بیان ’ دھماکہ خیز مواد منبر کے نیچے نصب کیا گیا تھا‘ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ٹارگٹڈ کارروائی تھی۔سکندر کرمانی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ کچلاک دھماکے میں ملا ہیبت اللہ کا ایک بیٹا زخمی ہوا ہے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے زخمیوں میں طالبان امیر کے 2 بھتیجے شامل ہیں۔ ’ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا حملہ لگتا ہے، حالانکہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس واقع کا مقاصد کیا ہوسکتے ہے؟ کیا یہ افغان امن معاہدہ ہونے سے پہلے حساب چکتا کرنے کا کوئی ذریعہ تھا؟ یا اس کے ذریعے جنگ کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے؟۔‘سکندر کرمانی نے کہا کہ انہیں افغان انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا ہے کہ کچلاک میں جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے اس میں ملا ہیبت اللہ کی موجودگی کا امکان تھا ،

افغان انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انہوں نے نہیں کی، انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ طالبان کی اندرونی طور پر آپسی لڑائی کا شاخسانہ ہوسکتا ہے۔

یاد رہے کہ آج جمعہ کے روز کوئٹہ کے قریب کچلاک ٹاﺅن کے علاقے کلی قاسم کی ایک مسجد میں جمعہ کے خطبے کے دوران دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 5 افراد جانبحق اور 2 درجن کے قریب اشخاص زخمی ہوئے ۔ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ کے مطابق مسجد بم دھماکے میں 2سے 3کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا جو کہ مسجد کے منبر کے نیچے رکھا گیا تھا، یہ دھماکہ ٹائم ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز