چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںکوئٹہ میں بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ HRCP

کوئٹہ میں بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ HRCP

کوئٹہ(ہمگام نیوز) آج سبزی منڈی ہزارگنجی کوئٹہ کے بم دھماکے کی پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی تنظیم (HRCP) نےکوئٹہ میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے جس میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور48 زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کا نشانہ شہرکی شیعہ ہزارہ آبادکار کمیونٹی تھی جو بظاہر سرکاری دعووں کے مطابق ‘ محفوظ حصار’ میں رہ رہی ہے، اورگذشتہ برس کے حملوں کے تواتر کی وجہ سے اب جب کبھی وہ خوراک اوردیگراشیاء لینے باہرجاتے ہیں تو ان کے ساتھ پولیس کا ایک دستہ بھی ہوتا ہے۔
کوئٹہ میں ایچ آرسی پی کے ذرا‏ئع کا کہنا ہے کہ حملے میں دیگرشہریوں کے علاوہ کم ازکم آٹھ شیعہ ہزارہ اورایف سی کا ایک اہلکارہلاک کیا گیا ہیں۔ آج جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں، HRCP نے کہا اس واقعے کا ایک سبزی منڈی میں پیش آنا جہاں آباکار شیعہ ہزارہ لوگ اکثرآتے جاتے ہیں ، ظاہرکرتا ہے کہ وہ بدستورغیرمحفوظ ہیں باوجود ان کوششوں کے جو ان کی زندگی و سلامتی کے حق کو یقینی بنانے کے لیے کی گئیں۔

یہ صورتحال ایک گہرے فرقہ ورانہ مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے جو اس وقت تک حل نہیں ہوگا جب تک ریاست شدت پسندی اورمذہبی انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے منظم کوشش نہیں کرتی۔ شیعہ ہزارہ محصورہوکررہ رہے ہیں، ان کی نقل و حرکت اوراجتماع محدودہے اوران کی کاروبارکرنے اورروزمرہ امور نمٹانے کی صلاحیت بہت زیادہ متاثرہوئی ہے۔ زندگی اس طرح سے نہیں گزاری جاتی۔
‘یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 500 سے زائد شیعہ ہزارہ ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔ پاکستانی ریاست کے شہری ہونے کے ناطے، شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو ایک وسیع تر معاشرے کا حصہ ہونے کی حیثیت سے اور شدت پسندوں کے حملوں کے مسلسل خوف کے بغیر زندہ رہنے کا حق حاصل ہے۔ اگرچہ پولیس اور ایف سی کے محافظوں کے ذریعے تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے تاہم یہ ایک قلیل المدت حل ہے۔
ریاست کو یقینی بنانا ہوگا کہ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے وہ ادارے جن کے اپنے اہلکار اس حملے اور ایسے دیگرحملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں، مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کو ترجیح دیں۔ ریاست کو یہ واضح پیغام بھی دینا چاہیے کہ وہ کسی بھی مذہبی یا لسانی اقلیت کے خلاف تشدد برداشت نہیں کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز