کوئٹہ(ہمگام نیوز) کچھ عرصہ پہلے ایران کے شہر مشہد میں ’دیوارِ مہربانی‘ کی مہم شروع کی گئی تھی۔
سوشل میڈیا گروپ کوئٹہ آن لائن کی جانب سے قائم دیوار مہربانی پر یہ تحریر ہے کہ ’یہ جو دیوارِ مہربانی ہے۔ یہ غریبوں کا سہارا ہے‘۔
دیوارِ مہربانی کے افتتاح کے ساتھ ہی عورتوں اور بچوں سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں عطیات دینے کے لیے پہنچی۔
ان میں دس سالہ ایمن ضیاء بھی شامل تھی جنھوں نے بتایا کہ’میں نے اپنے کپڑے اس لیے لاکر دیے کیونکہ میں چاہتی ہوں کہ دوسرے بچے بھی اس طرح کے کپڑے پہنیں جو مجھے پسند ہیں۔
جہاں صاحب استطاعت لوگ دیوار مہربانی کے لیے کپڑے ، جوتے اور دیگر اشیاء عطیہ کرنے کے لیے آئے وہاں غریب طبقات سے تعلق رکھنے والے اپنی پسند کی کپڑے اور دیگر اشیاء بھی لینے کے لیے آئے۔
کوئٹہ آن لائن کی رضاکار شمائلہ اسماعیل نے بتایا کہ ہر شہر میں اس کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک مالی لحاظ سے کمزور لوگوں کا خیال نہیں رکھیں گے اس وقت تک ترقی ممکن نہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ غریب لوگوں کی مدد کے لیے بلوچستان کے ہر شہر میں اس طرح کی دیوار مہربانی قائم ہو۔
انھوں نے کہا کہ سب کچھ اپنی مدد آپ کے تحت کیا گیا جس کا مقصد ان سفید پوش لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کسی سے کچھ مانگ نہیں سکتے۔


