کوئٹہ (ہمگام نیوز) فری بلوچستان موومنٹ نے اپنے مرکزی بیان میں کہا ہے، کہ گزشتہ روز مقبوضہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے پاکستانی فورسز اور بدنام زمانہ انٹیلی جنس ادارہ آئی- ایس- آئی نے مشترکہ جارحیت کرتے ہوئے پسماندہ علاقہ نصیر آباد سے علاج معالجے کی غرض سے آئے ہوئے کوئٹہ میں بگٹی بلوچ فیملی کے سات سالہ امین ولد حاجی دوست علی بگٹی، عزتون بی بی بنت ملحہ بگٹی، مراد خاتون بنت نزغو بگٹی، مہناز بی بی بنت فرید بگٹی، ساٹھ سالہ حاجی دوست علی ولد ملوک بگٹی اور اسی سالہ عمر رسیدہ بزرگ فرید بگٹی جنہیں کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی سے زبردستی گرفتار کرکے پاکستان آرمی کے خفیہ ٹارچر سیلوں میں منتقل کردیا۔ اس غیر اخلاقی اور غیر قانونی قید اور جبری اغوا کی ایف بی ایم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
مرکزی ترجمان نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کے علمبردار بین الاقوامی ادارے یونائیٹڈ نیشن اور انسانی حقوق کے حوالے سے خصوصی طور پر کام کرنے والے غیر سرکاری تنظیمیں،ایمنسٹی انٹرنیشنل ،ایچ آر سی پی ، ہیومن رائیٹس واچ ،سیودی چلڈرن قابض پاکستان کے ریاستی مشینری کی جھوٹی رپورٹس اور پروپیگنڈا پر تکیہ کرنے کی بجائے خودمختار تنظیموں کے طور پر اپنے مشاہداتی ٹیم کے ذریعے رپورٹ بناکر بین القوامی سطح پر عالمی فورمز اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے پاکستان کے مظالم اور ریاستی جنگی جرائم کو آشکار کرنے میں متاثرہ اقوام کی مدد کرکے اس خطہ کو کسی بڑے آتش فشاں سے بچانے میں اپنا کردار اداکرکےمزید تباہی سے بچائیں۔
مرکزی پالیسی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فورسز کے ہاتھوں بلوچ عوام کی بےرحمانہ گرفتاری کا تسلسل باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت شروع کیا گیا ہے اس واقعے سے قبل بھی متعدد بلوچ خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا جو عالمی قوانین کی بد ترین خلاف ورزی میں شمار کی جاتی ہیں۔
جنیوا کنونشن کی جانب سے مقرکردہ بین الاقوامی طور تسلیم شدہ یونیورسل انسانی حقوق کو یونائیٹڈ نیشن کی رکن ریاست پاکستان تواتر کے ساتھ اور کھلم کھلا انبین القوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے جو اب تک اسی تسلسل سے جاری ہیں۔
ریاست پاکستان کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی شکار مقبوضہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کے ساتھ ,ساتھ ریاستی میڈیا مکمل بلیک آؤٹ ہے جو کہ مجرمانہ کردار ادا کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستانی فوج کی اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کیلئے عالمی میڈیا کو بلوچستان میں جانے کی بالکل اجازت نہیں دے رہی ہے ، جس کیلئے ضروری ہے کہ انسانی حقوق پر کام کرنے والے لوکل غیر سرکاری تنظیمیں اور خصوصی طور پر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں بلوچستان کی خواتین و معصوم بچوں ،بزرگوں کی گرفتاری کا بغور مشاہدہ کرکے اس عمل کے خلاف اپنی ذمہ داری پوری کرکے بلوچستان میں ریاستی قوت کے بل بوتے پر منظم منصوبہ بندی کے تحت جنگی ہتھیار اور اجتماعی سزا کے طور پر بلاامتیاز عوام میں خوف وہراس پھیلانے کی کوشش میں کی جانے والی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں کا نوٹس لے کر اسے اپنے مرکزی اداروں کی توسط سے بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کریں۔
مرکزی بیان میں یاد دلاتے ہوئے کہا گیا کہ صرف پانچ دن پہلے دنیا بھر میں 10 دسمبر عالمی انسانی حقوق کے خصوصی دن کے طور پر منایا گیا،جسے پاکستان میں بھی سرکاری طور اس لئے منایا گیا تاکہ دنیا کو یہ باور کرایا جاسکے کہ ریاست پاکستان بھی بین الاقوامی طور تسلیم شدہ عالمی انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کر رہی ہے، حالانکہ مقبوضہ بلوچستان میں موجود زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔بلوچ قوم آزادی کی جنگ میں .گزشتہ دو دہائیوں سے ریاستی مظالم کے سخت خلاف ورزیوں کی شکار چلی آرہی ہے.
بلوچستان کے طول و عرض میں پاکستان کی فوج و بے لگام انٹیلی جنس ادارے کئی سالوں سے مقبوضہ بلوچستان میں کوہستان مری،مشکے آواران ،مکران اور اب ایک بار پھر ڈیرہ بگٹی سے غیر مسلح عام شہریوں کی زبردستی حراست و جبری اغوا کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
دنیا بھر میں ہر سال 10 دسمبر کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور باقاعدہ رسمی طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو ان کے حقوق کے بارے آگہی دینا اور بین الاقوامی سطح پر دنیا کی حکومتوں کو باور کروایا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیاز ان کے حقوق فراہم کررہے ہیں ۔ مہذب دنیا کی طرح دکھاوے کے طور پر پاکستان میں بھی یہ دن سرکاری سطح پر خصوصی طور منایا جاتا ہے ،تاکہ اقوام عالم کے سامنے اپنے ریاستی جنگی جرائم پر پردہ ڈالاجاسکے ۔
ایک طرف تو پاکستان کی حکومتیں انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ و دکھاوا کرنے کیلئے کشمیریوں کیلئے عالمی فورم پر آواز اٹھا رہے ہیں لیکن دوسری جانب اپنے ہی زیر قبضہ علاقوں میں رہنے والے دیگر مظلوم اقوام بلوچ ، پشتون اور سندھیوں کیلئے زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، جہاں آئے روز پاکستان میں محکوم و مظلوم اقوام کیساتھ بڑھتے ہوئے مظالم ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔
بلوچ قوم دوست پارٹی فری بلوچستان موومنٹ نے بین الاقوامی اداروں یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے پرزور اپیل کی کہ وہ مقبوضہ بلوچستان میں ڈھائے گئے یو این کے ممبر ممالک ایران و پاکستان کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ان کو دہشتگرد ریاست قرار دے کر انکی رکنیت ختم کرکے ان پر سیاسی و معاشی پابندیاں لگا کر متاثرہ اقوام کو انصاف دلائیں۔
بیان کے آخر میں کہا گیا ہے کہ وہ قابض ریاستوں کی جانب سے بلوچ قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ممکنہ طور پر دنیا بھر میں ہر وقت ہرسطح اجاگر کرنے کے لئے آواز بلند کرتا رہیگا.