Homeخبریںکہنوج: ریٹائرڈ بلوچ استاد بیٹے کی فائرنگ سے قتل، زمین فروخت کرکے...

کہنوج: ریٹائرڈ بلوچ استاد بیٹے کی فائرنگ سے قتل، زمین فروخت کرکے گاڑی خریدنے پر تنازع کا دعویٰ

کہنوج (ہمگام نیوز): ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر کہنوج کے نواحی گاؤں زہ میں ایک ریٹائرڈ استاد اپنے ہی بیٹے کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ زمین فروخت کرکے گاڑی خریدنے کے معاملے پر باپ اور بیٹے کے درمیان پیدا ہونے والے خاندانی تنازع کے نتیجے میں پیش آیا۔

بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک کے مطابق، جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو کہنوج کے مرکزی علاقے نخلسستان کے گاؤں زہ میں ایک ریٹائرڈ استاد کو ان کے بیٹے نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ مقتول کو تین گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق مقتول کی شناخت مجید اطمینانی کے نام سے ہوئی ہے، جو پیشے کے اعتبار سے ریٹائرڈ استاد اور گاؤں زہ، کہنوج کے رہائشی تھے۔

ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب باپ اور بیٹے کے درمیان زمین فروخت کرکے گاڑی خریدنے کے معاملے پر اختلاف پیدا ہوا۔ اس دوران بیٹے نے مبینہ طور پر اپنے والد پر تین گولیاں چلائیں، جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مقتول کا بیٹا ایک فوجی ادارے میں ملازم ہے، تاہم اس کی ادارہ جاتی وابستگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

رپورٹ مرتب کیے جانے تک ملزم کی گرفتاری یا اس کے خلاف قانونی کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں

آئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز