ہمگام رپورٹ
دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی، شہری دفاع کے نظام میں توسیع اور حکومتوں کی جانب سے عوام کو ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا دنیا کسی بڑے عالمی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ جاپان، برطانیہ اور یورپ کے متعدد ممالک میں شہریوں کو خوراک، پانی اور ضروری اشیا ذخیرہ کرنے، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور ممکنہ بحرانوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور روس و نیٹو کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عالمی سلامتی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
جاپان میں شہریوں کو قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے کم از کم تین دن اور ترجیحاً ایک ہفتے کی خوراک، پینے کا پانی اور ضروری اشیا گھر میں رکھنے کی سرکاری رہنمائی دی جاتی ہے ۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلوں اور سونامی کے خطرات کے باعث شہریوں کی ہنگامی تیاری ایک طویل عرصے سے حکومتی پالیسی کا حصہ رہی ہے ۔ تاہم ملک کی دفاعی پالیسی میں بھی تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں ۔ 28 اکتوبر 2026 کو جاپان اور امریکہ کے وزرائے دفاع کی ملاقات میں میزائل دفاع، مشترکہ فوجی مشقوں اور ایشیا پیسیفک خطے میں دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ یہ پیش رفت خطے میں چین، تائیوان اور شمالی کوریا سے متعلق سکیورٹی خدشات کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے ۔
برطانیہ میں بھی شہریوں کی ہنگامی تیاری سے متعلق حکومتی اقدامات توجہ حاصل کر رہے ہیں ۔ 22 اکتوبر 2026 کو برطانوی حکومت نے ایک نئی مہم شروع کی، جس کے تحت شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنے گھروں میں کم از کم تین دن کے لیے خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات کا ذخیرہ رکھیں تاکہ بجلی، پانی، مواصلاتی نظام یا دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی متاثر ہونے کی صورت میں وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں ۔ حکومت کے مطابق اس مہم کا تعلق شدید موسمی حالات، طوفان، جنگلاتی آگ اور دیگر ہنگامی واقعات سے ہے ۔ تاہم یورپ میں مجموعی دفاعی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ اقدامات شہری تحفظ کی وسیع تر حکمت عملی کا بھی حصہ ہیں ۔
شمالی اور مشرقی یورپ میں شہری دفاع اور ممکنہ جنگی حالات سے نمٹنے کی تیاریاں زیادہ نمایاں ہیں ۔ 26 اکتوبر 2026 کو فرانسیسی اخبار لی موند نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فن لینڈ، سویڈن، پولینڈ، ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا اپنی آبادی کو ممکنہ فوجی تصادم اور دیگر بڑے بحرانوں کے لیے تیار کر رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق پولینڈ میں تقریباً 86 ہزار شہری پناہ گاہیں موجود ہیں، جن میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد کے لیے گنجائش بتائی گئی ہے، جبکہ سویڈن میں تقریباً 64 ہزار اور فن لینڈ میں 50,500 پناہ گاہیں موجود ہیں ۔ فن لینڈ کی ان پناہ گاہوں میں تقریباً 48 لاکھ افراد کے لیے گنجائش بتائی گئی ہے ۔ اس ملک نے 2030 تک زیر زمین ہسپتالوں کی ترقی کے لیے 400 ملین یورو کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی بنایا ہے ۔
ان ممالک میں شہریوں کو ہنگامی انخلا، ابتدائی طبی امداد، پناہ گاہوں کے استعمال اور بحران کے دوران بنیادی ضروریات پوری کرنے سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے ۔ ان اقدامات کی ایک بڑی وجہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ، روس کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور سائبر حملوں کے خدشات ہیں ۔ اس لیے یورپ کی موجودہ تیاریوں کو محض قدرتی آفات سے تحفظ تک محدود نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ان میں ممکنہ فوجی تصادم سے نمٹنے کی تیاری بھی شامل ہے ۔
یورپی یونین نے بھی مارچ 2025 میں Preparedness Union Strategy کے نام سے ایک جامع حکمت عملی متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد شہریوں کو کم از کم 72 گھنٹے تک اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنانا ہے ۔ اس منصوبے میں جنگی تنازعات، سائبر حملوں، توانائی اور پانی کی فراہمی میں تعطل، قدرتی آفات اور صحت عامہ کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔ یورپی کمیشن کے مطابق شہری دفاع، ہنگامی ذخائر اور فوجی و سول اداروں کے درمیان تعاون مستقبل کے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔
مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی صورتحال کا ایک اہم اور تشویش ناک پہلو ہے ۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے 28 اکتوبر 2026 کو سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی حکام نے مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک اور علاقائی اتحادیوں کو ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں ایرانی جوابی حملوں کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے امکان کا ذکر کیا ہے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ممکنہ کارروائی کئی دن جاری رہ سکتی ہے، جبکہ علاقائی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی حملے توانائی کے مراکز اور دیگر اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں ۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ امریکی صدر نے حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا اور سفارتی رابطوں کا راستہ بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا ۔
امریکی محکمہ خارجہ نے 22 جولائی 2026 کو اپنے شہریوں کے لیے عالمی سطح پر سکیورٹی الرٹ بھی جاری کیا تھا، جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، ممکنہ فوجی پیش رفت، فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی منسوخی سمیت دیگر خطرات کا ذکر کیا گیا تھا ۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی تصادم شروع ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود رہنے کا امکان نہیں ہوگا ۔ خلیج فارس، آبنائے ہرمز، عراق، شام، یمن اور عالمی توانائی کی منڈی بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو سکتی ہے ۔
دوسری جانب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نے یورپی سلامتی کے نظام کو پہلے ہی شدید متاثر کیا ہے ۔ 2022 میں روس کے یوکرین پر بڑے پیمانے کے حملے کے بعد یورپی ممالک نے اپنی دفاعی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں ۔ پولینڈ، فن لینڈ اور بالٹک ممالک نے سرحدی دفاع، فوجی صلاحیتوں، شہری پناہ گاہوں اور ہنگامی نظام پر سرمایہ کاری بڑھائی ہے ۔ نیٹو کی مشرقی سرحدوں پر فوجی مشقوں اور دفاعی تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ یورپی ممالک کی ان تیاریوں کے پیچھے روس کے ساتھ ممکنہ مستقبل کے تصادم کا خدشہ ایک اہم عنصر ہے، تاہم روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست جنگ شروع ہونے کی کوئی مصدقہ تاریخ یا اگلے چند ہفتوں میں عالمی جنگ کے آغاز کا کوئی مشترکہ سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ ۔
ایشیا پیسیفک خطے میں بھی فوجی کشیدگی کے کئی عوامل موجود ہیں ۔ چین اور تائیوان کے درمیان تنازع، شمالی کوریا کے میزائل پروگرام اور جاپان و امریکہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون نے خطے کی صورتحال کو حساس بنا دیا ہے ۔ ان حالات میں امریکہ، جاپان اور ان کے علاقائی اتحادی اپنی فوجی صلاحیتوں اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہے ہیں ۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا کی بڑی طاقتیں اور متعدد علاقائی حکومتیں اپنی دفاعی حکمت عملیوں کے ساتھ ساتھ شہری تحفظ کے نظام کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں ۔ جاپان میں قدرتی آفات سے تحفظ، برطانیہ میں بنیادی سہولتوں کے تعطل سے نمٹنے، یورپی یونین میں 72 گھنٹے کی خود انحصاری اور شمالی یورپ میں ممکنہ جنگ کے لیے شہری دفاع کی تیاری اپنی اپنی جگہ اہم پیش رفت ہے ۔ دوسری طرف امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ نئے فوجی تصادم اور روس و نیٹو کے درمیان کشیدگی عالمی سلامتی کے لیے حقیقی چیلنج ہیں ۔
ان تمام پیش رفتوں کے باوجود دستیاب سیاسی و دفاعی سمیت معاشی اتار چڑھاؤ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے والی ہے ۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسے تاثرات بتائے جا رہے ہیں کہ آج یا کل بڑا عالمی جنگ شروع ہونے والا ہے ۔ لیکن مختلف حکومتوں کی جانب سے شہریوں کو ہنگامی حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایات کو عالمی جنگ کے آغاز کی مصدقہ وارننگ قرار دینا درست نہیں ہوگا ۔ البتہ یہ واضح ہے کہ دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جس میں فوجی تصادم، توانائی کی سلامتی، سائبر حملوں اور علاقائی بحرانوں کے خطرات کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے ۔
اس کے علاوہ خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال خصوصی اہمیت رکھتی ہے ۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کے باعث امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں تجارتی جہازرانی، تیل کی ترسیل، فضائی راستوں اور علاقائی معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ تاہم ان امکانات کو موجودہ حقیقت سمجھنے کے بجائے ممکنہ خطرات کے طور پر دیکھنا چاہیے ۔
نتیجتاً، موجودہ حالات عالمی سطح پر دفاعی تیاریوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن تیسری عالمی جنگ کے فوری آغاز کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں ہیں ۔ اس مرحلے پر اصل ضرورت افواہوں کے بجائے سرکاری اعلانات، مستند صحافتی ذرائع اور زمینی حقائق کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لینے کی ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں جیسا رواں ہفتے کے دوران کسی بھی بڑے عالمی چپقلش ہو سکتا ہے ۔ اسی تناظر میں ہمگام کی ٹیم نے حال ہی میں ہونے والے عالمی نشیب و نشیب فراز کی تحقیقات کرکے یہ مضمون تیار کیا ہے ۔




