سنندج ( ھمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ کردستان میں حالیہ گرفتار شدہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران قابض ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اور دیگر خفیہ ادارے روزانہ اوسطاً پانچ کرد شہریوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کردستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والے ادارے ہنگاؤ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق منگل 19 جنوری 2021 کو کردستان کے پیرانشہر میں 3 شہریوں کی گرفتاری کے دوران ہی ایک اور شہری جس کی شناخت 37 سالہ پشتیوان نبی زرگتن کے نام سے ہوگئی۔ اس کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
دوسری طرف 12 جنوری جمعرات کو بوکان کے ایک شہری جس کی شناخت “محی الدین شامه” کے نام سے ہوئی ہے کو سیکیورٹی فورسز نے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ منگل کے روز بوکان میں کم سے کم 19 دیگر افراد کو حراست میں لیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز اور انٹلیجنس ایجنسی نے ان دونوں شہریوں کی گرفتاری کی وجہ واضح نہیں کی ہے اور انہیں کہاں منقتل کر دیا گیا ہے تاحال ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ـ
گذشتہ روز سقز کے ایک شہری جس کی شناخت عطا (شمالی) رحمانزادہ کے نام سے ہوئی ہے کو قابض ایرانی سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا ہے تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں کہ انہیں کہاں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس طرح انسانی حقوق کی تنظیم کے شماریات اور دستاویزی مرکز میں درج اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ دو ہفتوں کے دوران ، مهاباد، ربط، پیرانشهر، نقده، سقز، بانه، مریوان، سنندج، کلاترزان، سروآباد اور کرمانشاه شہروں میں کم از کم 67 کرد شہریوں کو قابض ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اور خفیہ اداروں نے گرفتار کر لیا ہے جن میں سے 5 افراد کو رہا کیا گیا ہے اور 62 افراد تاحال زیر حراست ہیں۔
ہنگاؤ کے قانونی مشیر فراز فیروزی نے ہیگاؤ تنظیم کو بتایا کہ حالیہ گرفتاریوں میں قابض ایران نے کسی بھی گرفتار شخص کو اپنی شنوائی کے لیئے وکیل کی رسائی کے حق سے محروم کردیا ہے اور انہوں نے مزید کہا ہے کہ گرفتار شدگان کی زندگی برحال خطرات سے دوچار ہے۔ انہیں ٹارچر سیلوں میں ڈال کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے کیونکہ جو شخص ایران میں اپنے حقوق کے مطالبات کو لے کر سرکار کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو ایران اُسے گرفتار کرکے خفیہ مقامات پر تشدد کے بعد قتل کر دیتا ہے۔ـ


