سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںگوادر میں پانی کا بحران خود ساختہ اور قابض ریاست کا پیدا...

گوادر میں پانی کا بحران خود ساختہ اور قابض ریاست کا پیدا کردہ ہے۔بی ایس او آزاد

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزادکے مرکزی ترجمان نے گوادر میں ایک عرصے سے جاری پانی کی خود ساختہ بحران پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں پانی کا بحران خود ساختہ اور قابض ریاست کا پیدا کردہ ہے، تاکہ مقامی آبادی پر عرصہ حیات تنگ کرکے انہیں نکل مکانی پر مجبور کرنے کے بعد ان کی زمینیں آبادکاروں کے لئے خالی کی جا سکیں۔انہوں نے کہا کہ گوادر سمیت بلوچستان بھر کے نام نہاد ترقیاتی پروجیکٹ بلوچ قوم کی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ انہیں اقلیت میں بدلنے کے لئے ہونے والی منظم سازشوں کا حصہ ہیں۔ گوادر میں ’’ماسٹر پلان ‘‘ مقامی آبادی کو شہر سے دور کرنے کے منصوبے کا ابتدائی سلسلہ ہے، تاکہ گوادر کے قدیم رہائشی بلوچوں کو شہر سے دور منتقل کرکے ان کی زمینیں غیر بلوچوں کے حوالے کی جاسکیں۔انتہائی اہمیت کے حامل خطہ کو پاکستان، چائنا و دیگر توسیع پسند ممالک اپنے تصرف میں لانے کے لئے مقامی آبادی کو ہر قیمت پر بے دخل کرنے کی پالیسیوں پر عمل پھیرا ہیں۔ مقامی آبادی کے لئے پانی کا حصول اور ذریعہ معاش کے تمام دروازے بند کیے جا رہے ہیں، ماہی گیری جو کہ گوادر کی بیشتر آبادی کا ذریعہ معاش ہے اسے عام ماہی گیروں کے لئے سکیورٹی کے نام پر انتہائی محدود کردیا گیا ہے تاکہ معاشی تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر مقامی بلوچ آبادی گوادر سے کہیں اور منتقل ہونے پر مجبور ہوجائے۔ ترجمان نے کہا کہ چین اپنی سرمایہ کاری کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے نہ صرف بحربلوچ میں بلوچ آبادیوں کے لئے روز مرہ کی زندگی تنگ کرنے کے لئے پاکستان کا ہمکار ہے بلکہ جہاں جہاں سے نام نہاد اقتصادی کوریڈور کی ممکنہ گزرگاہیں ہیں، وہاں سے بلوچ آبادیوں کو فوجی طاقت کے زور پر ہٹایا جا رہا ہے۔ آواران، کولواہ، بالگتر، سبی سمیت مختلف علاقوں پچھلے کئی دنوں سے جاری آپریشن و درجنوں دیہاتوں کو نظر آتش کرنے کی کاروائیاں انہی استحصالی منصوبوں کے سامنے مزاحم بلوچ عوام کو نکل مکانی پر مجبور کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔لاکھوں کی آبادی کا شہر گوادر کو ’’ریذیڈنس کارڈ‘‘ منصوبے کے نام پر ایک اجتماعی جیل میں تبدیل کرنے کی پالیسی کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے، جس کے ذریعے گوادرکے مقامی لوگوں کی نکل و حرکت پر غیر فطری پابندی لگائی جائیگی ۔ترجمان نے کہا کہ استحصالی منصوبوں پر کام کرنے والے فوجیوں اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) کے اہلکاروں کے لئے روزانہ لاکھوں گیلن درکار پینے کا پانی انہیں بروقت فوجی گاڑیوں میں پہنچایا جارہا ہے، جبکہ مقامی بلوچ آبادی کو پینے کے پانی کے لئے محتاج بنایا جا چکا ہے۔گوادر میں خود ساختہ پانی کے بحران کا مقصد ماسٹر پلا ن کے سامنے حائل رکاوٹ کو بغیر کسی مذاحمت کے دور کرنا ہے، تاکہ مقامی آبادی پیاس کے سامنے ہتھیار ڈال کر ریاستی پالیسی کے مطابق اپنی زمینوں سے دستبردار ہو جائے۔کیوں قابض ریاست بخوبی جانتی ہے کہ گوادر میں طاقت کے بے دریغ استعمال بھی عوام کو شکست نہیں دے سکتا اور گوادر جیسے شہر میں اپنی براہ راست دہشتگردی کو چھپایا نہیں جا سکتا، اسی لئے مقامی آبادی کو غیر محسوسانہ انداز میں ان کے علاقوں سے بیدخل کرنے کے لئے خود ساختہ پانی کا بحران پیدا کیا جا چکا ہے۔تاکہ مقامی آبادی کی منتقلی کی صورت میں چائنا و پاکستان کے استحصالی منصوبوں کو بلوچ عوام کی صورت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔بی ایس او آزاد کے ترجمان نے جنگی قوانین کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی تنظیموں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے بحران کو پاکستان ایک ہتھیار کے طور پر فوجی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کرکے لاکھوں کی آبادی کو نکل مکانی پر مجبور کررہی ہے۔ اگر ان تنظیموں نے اس کے خلاف آواز نہ اُٹھائی تو چائناپاکستا ن اقتصادی کوریڈور نہ صرف گوادر بلکہ بلوچستان بھر میں ہزاروں انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ لاکھوں خاندانوں کو ان کے علاقوں سے بیدخل کرنے باعث ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز