سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںگوادر پورٹ ایریا میں گیس نکل آئی: گوادر پورٹ

گوادر پورٹ ایریا میں گیس نکل آئی: گوادر پورٹ

گذشتہ روز شام کے وقت گوادر پورٹ کے علاقے میں جاری کام کے دوران ایک چینی کمپنی کے ماہرین کو زمین کی ڈیرلنگ کرتے وقت گیس کی موجود کا پتہ چلا ۔ گیس کا پریشر کم تھا اور جلد اس پر قابو پایا گیا ۔ ذرائع گوادر پورٹ۔
واضح رہے کہ اس سے قبل پسنی کے جنوب مغرب میں 60 میل کے فاصلے پر گیس کا ایک بہت بڑا ذخیرے کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جس پر 1997 سے 1999 تک یو ایم سی نامی ایک کمپنی جس میں امریکہ میں موجودہ پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی صاحبہ کے بھی شیئر تھے کام کر رہا ہے ۔ 1998 کی چاغی میں ایٹمی دھماکوں کے بعد یہ کام رک گیا اور جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو یہ کمپنی یہاں سے چلی گئی ۔ جب یہ کمپنی کام کر رہا تھا تو ایک موقع پر گیس کی پریشر اس قدر زیادہ تھی کہ کمپنی کو دبئی سے مزید مشینری منگوانے پڑے۔ جن کی ماہانہ کرایہ کروڑوں روپے تھی ۔ لیکن اسی دوران چاغی ایمٹی دھماکے کیے گئے ۔ اور کام رک گیا۔ پسنی والے ذخیرے کے علاوہ یہ کمپنی گوادر کے جنواب میں کوئی 25 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں ایک اور ذخیرے پر بھی کام کر رہا تھا یہ کام چونکہ پسنی والے کام کے مہینوں بعد شروع کیا گیا تھا اس لیے یہ ابھی ابتدائی مرحلے میں تھا کہ چاغی ایٹمی ٹسٹ ہوئے اور سارا کام رک گیا۔
جس دوران پسنی والے ذخیرے کی پریشر کو قابو کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے پاکستان نے شاہین مزائل کو ٹسٹ کیا ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس مزائل کا ہدف جیونی کے سمندر میں ایک علاقہ تھا۔ اس ٹسٹ کی کامیابی پر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اسی روز گوادر میں گش ھاربر جیٹی پر ایک جلسہ منعقد کیا ۔ اسی جلسے میں گوادر ڈیپ سی پورٹ بنانے کا سرکاری اعلان کیا گیا۔
بلوچ قوم پرست حلقوں کی طرف سے اکثر کہا جاتا ہے کہ گوادر میں جاری تمام سرگرمیاں مکران میں موجود گیس اور دیگر معدنی ذخائر سے جڑے ہوئے ہیں

یہ بھی پڑھیں

فیچرز