حب: (ہمگام نیوز ) میڈیا اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گڈانی میں پینے کی پانی کی مسلسل بندش کے خلاف مجبورا سینکڑوں بلوچ خواتین سڑکوں پر نکل آگئیں اور احتجاجاً مختلف شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کو بلاک کردیا۔
تفصیلات کے مطابق گڈانی میں پانی کی بندش کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں خواتین مین شاہراہ پر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں اور اسی شاہراہ کو بلاک کردیا جس کے باعث گاڑیوں کی دونوں اطراف کو لمبی،لمبی قطاریں لگ گئیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہمیں پھچلے 4 ماہ سے گڈانی میں پانی کی سپلائی بند کیا گیا ہے جس سے روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں لہذا جب تک ہمیں پانی فراہم نہیں کیا جائے گا ہم کسی صورت اس انتخابات کے ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکتے ۔
اس کے بعد ازاں لوکل انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد خواتین مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کردیا جس کے بعد شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔یاد رہے قابض پاکستان و چائنا کی استعصالی منصوبہ سی پیک کے بعد سے ریاست کی مسلسل یہ منظم پالیسی رہی ہے کہ بلوچ عوام کو فوجی جارحیت یا پینے کی پانی کی مختلف بہانوں سے بندش کرکے مقامی عوام کو ہجرت پر مجبور کرکے ان کی پدری زمینوں پر قبضہ کرکےچائنیز،پنجابی،اورکراچی کے مہاجروں کولاکر آباد کیا جائے۔جس سے بلوچ کی آبادی اقلیت میں بدل جائیگی۔