کوئٹہ ( ہمگام نیوز ) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی کمی سمیت معاشی تنگ دستی کی وجہ سے طلباء کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ گنتی کے تعلیمی اداروں میں سہولیات کی کمی کی وجہ سے مشکلات میں گھرے طلباء اپنے آئینی مطالبات کیلئے روز احتجاج و دھرنوں کے زریعے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے پر مجبور کئے جارہے ہیں۔
ترجمان نے کہا ہے کہ تربت یونیورسٹی کے طلباء پچھلے دو ہفتوں سے فیسوں میں بے تحاشہ اضافے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ مختلف حیلوں و بہانوں کے زریعے طلباء کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ بلوچستان کے زمینی حقائق کے برعکس یونیورسٹی کی معاشی ضروریات کا ملبہ طلباء پر گرا کر انھیں تعلیم کے حقوق سے دستبردار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر طلباء کے لیے مزید سہولیات تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن ماضی تعلیم دشمنی کی عمل کو دھرا کر طلباء کو روڈوں پر نکلنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ تربت یونیورسٹی کی جانب سے فیسوں میں بوقت اسی سے سو فیصد تک کا اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ زمینی حقائق و طلباء کے مسائل کے حوالے سے مکمل لاعلم ہے یا سازش کے تحت وہ بلوچ طلباء کے لیے تعلیمی دروازوں کو بند کرنے کی کوشش میں مصروف عمل ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ سرویز کے مطابق بلوچستان کی ساٹھ فیصد آبادی خط غربت کی نیچے کی زندگی گزار رہی ہے، لیکن ہمیں خدشہ ہے کہ یہ تعداد ساٹھ فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ ایسے حالات میں تعلیمی حصول کو آسان بنانے کے لیے اسکالرشپ و دیگر وظائف کے زریعے طلباء و والدین کی سوچ کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے بجائے دانستہ طور پر ان کی حوصلوں کو پست کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ترجمان نے بیان کے آخر میں اسٹوڈنٹس الائنس تربت کی احتجاج کا مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن و تربت یونیورسٹی انتظامیہ طلباء کے مطالبات کو مان کر انھیں مزید روڈوں پر دکھیلنے پر مجبور کرنے سے باز آئے۔ آگر طلباء کو مزید احتجاج کرنے پر مجبور کیا گیا تو طلباء احتجاج کو مزید وسعت دیکر کلاسز کی بائیکاٹ، یونیورسٹی کی تالہ بندی سمیت احتجاجی مظاہرے کریں گے۔


