جمعه, اپریل 4, 2025
Homeخبریںہائی سکیورٹی سویڈش جیل کے گارڈ یرغمالی، بحران پیزا سے حل ہوا

ہائی سکیورٹی سویڈش جیل کے گارڈ یرغمالی، بحران پیزا سے حل ہوا

اسٹاک ہوم (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق سخت حفاظتی انتظامات والی ایک سویڈش جیل میں مسلح قیدیوں کی طرف سے دو سکیورٹی گارڈز کے یرغمال بنا لیے جانے کا واقعہ بغیر کسی خونریزی کے اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ بحران کے حل کے لیے قیدیوں نے پیزا کھلانے کا مطالبہ کیا تھا۔

سٹاک ہوم سے اکیس جولائی کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ بدھ بیس جولائی کی سہ پہر سویڈن کے شہر اَیسکِل سٹونا کے نواح میں ہالبی جیل میں پیش آیا۔ وہاں قتل کے جرم میں سزا کاٹنے والے اور بلیڈوں سے مسلح دو قیدیوں نے دو محافظوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

یرغمالیوں کے قتل کی دھمکی
ان قیدیوں کا مطالبہ تھا کہ جیل میں ان کے سیلز والے ونگ کے تمام 20 قیدیوں کے لیے پیزا آرڈر کیا جائے اور پیزا پر کباب کے گوشت کی ٹاپنگ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کا مطالبہ پورا نہ کیا گیا، تو یرغمالی گارڈز کی شہ رگیں کاٹ دی جائیں گی۔

اس واقعے کے بعد جیل انتظامیہ کی ایک ترجمان نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ اعلیٰ حکام نے قیدیوں کے ساتھ مذاکرات میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ یرغمالیوں کو رہا کر دیں۔ تاہم ملزمان راضی نہ ہوئے تو حکام نے مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پیزا آرڈر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اغوا کار یرغمالیوں کو رہا کرنے پر تیار نہ ہوئے تو نو گھنٹے بعد حکام نے مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے پیزے آرڈر کرنے کا فیصلہ کیا.

ٹورکل اومنیل نامی ایک جیل اہلکار نے ملکی میڈیا کو بتایا کہ جب یرغمال بنانے کے اس واقعے کو تقریباﹰ نو گھنٹے ہو چکے تھے تو جیل حکام نے نصف شب کے بعد ملزمان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے بیس پیزے آرڈر کرنے کا فیصلہ کیا۔ جیل کی خاتون ترجمان سٹینا لائلس کے مطابق، اپنی رہائی کے بعد دونوں گارڈز بحفاظت واپس اپنے گھروں میں پہنچ گئے۔

اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد سویدش میڈیا میں ایسی تصویریں بھی گردش کرنے لگیں، جن میں پولیس اہلکاروں کو ایک مقامی پیزا ریستوراں کے سامنے ڈبوں میں بند پیزے اپنی سرکاری کاروں میں رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ بعد ازاں اس ریستوراں کی طرف سے بھی تصدیق کر دی گئی کہ پولیس اہلکار 20 افراد کے لیے پیزے خرید کر ساتھ لے گئے تھے۔

جیل کی ترجمان لائلس کے مطابق، ”اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور دونوں گارڈز کی جانیں بچانے کے لیے اغوا کاروں کے مطالبے پر جیل میں ان کے ونگ کے تمام 20 قیدیوں کو رات کے کھانے کے لیے پیزے فراہم کر دیے گئے۔

ایل سیلواڈور کی بدمعاشوں سے بھری جہنم نما جیلیں لاطینی امریکا کی جیلوں کا شمار دنیا سب سے زیادہ بھری ہوئی جیلوں میں ہوتا ہے۔ ایل سیلواڈور کی جیلیں تنگ ہیں اور قیدی بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

ایل سیلواڈور کی بدمعاشوں سے بھری جہنم نما جیلیں ایل سلواڈور کو گزشتہ کئی دہائیوں سے گینگ وار کا سامنا ہے۔ منشیات فروش گروہ پھیل چکے ہیں۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ان گینگز سے وابستہ ہے جبکہ سرکاری جیلیں قیدیوں سے بھر چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز