پشاور : (ہمگام نیوز) گزشتہ شب دس بجے کے قریب پشاور کے علاقے یکہ توت میں ایک خودکش حملہ ہوا، حملے میں اے این پی رہنما ہارون بلور سمیت بیس سے زائد افراد مارے گئے اور تقریبا 53 سے زائد زخمی ہوئے،اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی اور یہ مولانا فضل اللہ کے جانے کے بعد پہلا بڑا حملہ ہے، حملے کی وضاحت میں کہا گیا ہے کہ یہ انتقامی کارروائیوں میں سے ایک ہے اور اب یہ جاری رہینگی ـ
تجزیہ کارون کے مطابق کسی کو ان حالات میں اتنے بڑے حملے کی توقع نہیں تھی، ہارون بلور بشیر بلور کا بیٹا ہے اور انکا والد بھی 2012 میں ایک ایسے ہی حملے میں جان کی بازی ہار چکا ہے جسکی ذمہ داری تحریک طالبان حلقہ درہ آدم خیل نے قبول کی تھی۔
پاکستانی طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ایک سولہ سالہ حملہ آور لڑکے نے اپنے جسم پر آٹھ کلو گرام بارودی دھماکا خیز مواد اور تین کلو گرام بال بیئرنگ باندھے ہوئے تھے۔