لشکرگاہ(ہمگام نیوزڈیسک) افغانستان کے جنوبی ولایت ہلمند کی گورنر کے ترجمان عمر زواک نے کہا کہ جمعے کو شروع ہونے والے طالبان کے حملے میں کم از کم 20 فوجی جوان زخمی بھی ہوئے جہاں ضلع ویہسر میں ہفتے کو ختم ہونے والی یہ لڑائی تقریباً 40 گھنٹے تک جاری رہی۔
ترجمان نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب شوراب کیمپ میں ایک خود کش بمبار نے خود کو اڑا لیا، اس کے بعد مزید تین خود کش بمباروں نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا جس کے ساتھ ہی مسلح افراد نے دھاوا بول دیا۔
عمر زواک نے کہا کہ حتمی طور پر جائزہ لیے جانے کے بعد اس تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ حملے میں 22 طالبان شدت پسند بھی ماردیئے گئے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق صوبائی حکومت کے ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 40اہلکار مارے گئے ہیں۔
زواک نے کہا کہ حملے کے نتیجے میں دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں فوجی گاڑیوں اور دفاتر کو نقصان پہنچا۔
طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمد نے اپنے بیان میں حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے دعوہ کیا کہ کیمپ پر طالبان کے حملے میں افغان فورسز کے ساتھ ساتھ غیرملکی افواج کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں مارے گئے۔
صوبائی گورنر کے ترجمان نے بتایا کہ اس فوجی اڈے پر امریکی مشیر بھی موجود تھے لیکن وہ ایک دوسرے حصے میں تھے جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوجی اڈے پر غیرملکی فوجی بھی موجود تھے لیکن طالبان کمپاؤنڈ کے اس حصے تک نہیں پہنچ سکے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب قطر میں امریکی نمائندے اور طالبان امن عمل کیے لیے جاری مذاکرات کے سلسلے میں ملاقات کر رہے ہیں۔صوبہ ہلمند کے اکثر اضلاع پر طالبان کا کنٹرول ہے جو دنیا میں غیرقانونی افیم کی غیرقانونی ترسیلا کا سبسے بڑا ذریعہ ہے۔


