اتر پردیش (ہمگام نیوز) بھارت کے شمالی ریاست اترپردیش میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے باعث کم ازکم 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔دریائے جمنا کے کنارے آباد متھرا میں جمعرات کو دیر گئے جب پولیس نے سرکاری اراضی پر سے غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی تو ہزاروں مظاہرین میں سے ایک گروپ نے ان پر گولی چلا دی۔ اور اس دوران وہاں گیس کے سیلنڈر پھٹنے کے باعث آتشزدگی ہوگئی۔ جس سے 11 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔اترپردیش ریاست کے ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار دلجیت چودھری کے مطابق مرنے والوں میں دو پولیس افسر بھی شامل ہیں جب کہ اس واقعے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔گزشتہ دو سالوں سے 268 ایکڑ سرکاری اراضی پر قبضہ کر کے لوگوں نے یہاں عارضی رہائش گاہیں بنا لی تھیں۔ اور حکومت سے ان کا مطالبہ تھا کہ انھیں سہولت فراہم کی جائیں۔وقت کے ساتھ ساتھ یہاں آبادی بڑھنے لگی اور ایک خیمہ بستی آباد ہو گئی۔ جہاں ہزاروں مرد، خواتین اور بچے رہائش پذیر ہوئے۔اپریل میں الہ آباد کی عدالت عالیہ نے قابضیں سے یہ جگہ خالی کرنے کا کہنا تھا، لیکن ان کے انکار کی وجہ سے پولیس نے جمعرات کو عدالت کے حکم پر انھیں یہاں سے ہٹانے کے لیے کارروائی کی۔دلجیت چودھری کے مطابق تقریباً ایک سو افراد نے مبینہ طور پر یہاں آنے والے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا۔ جن میں سے بعض نے درختوں پر چڑھ کر پولیس پر گولی چلائی۔ریاست کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادوو نے کہا کہ “پولیس وہاں عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے گئی تھی۔ اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو کسی بھی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔”اب تک 370 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ پولیس یہاں سے اسلحہ اور دیگر مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔


