چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںیواین ایچ سی آر بلوچ مہاجرین کی جان ومال کی تحفظ کیلئے...

یواین ایچ سی آر بلوچ مہاجرین کی جان ومال کی تحفظ کیلئے فوری اقدام اٹھائے:چیئرمین خلیل بلوچ

کوئٹہ (ہمگام نیوز) بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ انسانی تاریخ اور مہاجرت کا رشہ ہزاروں سالوں سے چلتا آرہاہے جنگ زدہ خطوں کے لوگ ہمیشہ مہاجرت پر مجبور ہوتے ہیں اورتحفظ کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کرتے ہیں اس لئے مہذب دنیا نے مہاجرین کی حقوق اورجان و مال کی تحفظ کے لئے قوانین متعین کئے ہیں اوربین الاقوامی معاہدے تشکیل دیئے ہیں آج یہ صورت حال بلوچ قوم کو درپیش ہے، بلوچستان میں جاری ریاستی دہشت گردی،استحصالی منصوبوں اوران منصوبوں کی حفاظت کے نام پر لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری بیدخلی کی وجہ سے لاکھوں بلوچ مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبورکئے جاچکے ہیں۔آج بلوچ مہاجرین ہزاروں کی تعداد میں اپنی جان کی تحفظ کے لئے افغانستان،ایران،خلیجی ممالک،یورپ،امریکہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں جابسے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان بلوچ قوم کی منظم نسل کشی کررہاہے،ریاستی فورسزلوگوں کے گھربلڈوز کررہے ہیں،لوگ ہزاروں کی تعداد میں قتل اور لاپتہ کئے جاچکے ہیں،ذرائع معاش تباہ کئے جاچکے ہیں ان وجوہات کی بنا پر لوگ اپنی اور اپنے بچوں کے زندگیوں کی تحفظ کے لئے مہاجرت اختیار کرچکے ہیں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا دنیا بھرکے مہاجرین کی طرح بلوچ مہاجرین بھی وہی حقوق رکھتے ہیں جن کی ضمانت مہاجرین سے متعلق عالمی قوانین دیتے ہیں اوربلوچ جن ممالک میں پناہ گزین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں وہ ریاست عالمی قوانین کی رو سے اس بات کا پابند ہیں کہ بلوچ مہاجرین کی جان ومال کی تحفظ اور زندگی گزارنے کے لئے بنیادی سہولیات فراہم کریں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا بلوچ مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد افغانستان میں مقیم ہیں افغانستان اوربلوچ قوم کے تاریخی اوربرادرانہ رشتے ہیں اوربلوچستان پر پاکستان کے قبضے سے قبل صدیوں سے ایک دوسرے کے ممالک میں آمدو رفت جاری ہے اورمصیبت کے وقت ایک دوسرے کے ملک میں پناہ لیتے رہیں ہیں اورپاکستانی جارحیت سے موجودہ دور میں ہزارو ں کی تعداد میں  بلوچ افغانستان میں مہاجر کی زندگی بسر کررہے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں بلوچ مہاجرین نہ صرف صحت،تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ان کی زندگیوں کو یہاں بھی پاکستان سے شدید خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہاافغانستان میں بلوچ مہاجرین ہمیشہ پاکستان کے نشانے پر رہے ہیں ماضی میں بھی بلوچ مہاجرین پر شدید جان لیوا حملہ ہوچکے ہیں جن میں متعدد لوگ اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اورحالیہ دور میں بھی افغانستان میں پاکستان کے خفیہ ادارے اورجاسوس کافی سرگرم اوربلوچ مہاجرین پرجان لیوا حملے کرچکے ہیں گزشتہ روز ایک ایسے ہی حملے میں ایک بلوچ مہاجر عرض محمد مری شہید ہوگئے،یہ نہایت قابل مذمت اور افسوسناک عمل ہے کہ بلوچ نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ مہاجرت کی حالت میں بھی پاکستان کے ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بھی بلوچ مہاجرین کی بہت بڑی تعداد آباد ہے اور وہاں بھی بلوچ مہاجرین محفوظ نہیں ہیں، متحدہ عرب امارت میں مقیم انسانی حقوق کے سرگرم کارکن راشدحسین کو امارات کے خفیہ اداروں نے حراست میں لے لاپتہ کردیا تھا اور چھ مہینوں تک لاپتہ رکھنے کے بعد آج پاکستان کے حوالے کردیا ہے،امارات کو احساس کرنا چاہئے کہ راشد بلوچ انسانی حقوق کا سرگرم کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہے،اس کے خاندان کے بیشتر افراد کو پاکستان نے ماورائے قانون قتل کردیا ہے اور راشدحسین اپنی زندگی بچانے کے لئے دبئی میں مقیم تھے جہاں سے انہیں امارات کے خفیہ ایجنسی نے حراست میں لیاتھا جس کی اس وقت بھی بی این ایم نے مذمت کی تھی اورآج کے پیشرفت کوبھی انتہائی مایوس کن اورانسانی اقدار کے خلاف قرار دیتاہے، انسانی حقوق کے ایک کارکن کو چینی قونصلیٹ میں حملہ کے شبے میں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطلب ان کی ماورائے قانون وانصاف قتل ہے۔

چیئرمین خلیل بلوچ نے کہا میں اقوام متحدہ اور مہاجرین کے عالمی ادارے یو این ایچ سی آر(UNHCR)سے اپیل کرتاہوں کہ وہ بلوچ مہاجرین کے جان و مال کی تحفظ اوربنیادی انسانی ضروریات بہم پہنچانے کے لئے فوری اقدام اٹھائے کیونکہ پاکستان نہ صرف بلوچ سرزمین پر بلوچ عوام کا قتل عام کررہاہے کہ بلوچ سرزمین سے باہر مہاجرت پر مجبورکئے گئے بلوچ مہاجر پاکستان کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں یہ انسانی حقوق کے اداروں کے وجو د اورکارکردگی پربہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز