لندن( ہمگام نیوز ) فری بلوچستان موومنٹ یوکے برانچ نے بلوچستان کی آزادی کے دن کی مناسبت سے لندن میں گیارہ اگست 2019 کے دن تقریب کا انعقاد کیا۔
اس تقریب میں بلوچ سیاسی کارکنوں کے علاوہ دوسرے اقوام اور تنظیموں سے منسلک افراد بھی شریک تھے۔ تقریب میں خان آف قلات میر سلیمان داؤد، بلوچ ریپبلکن پارٹی، بلوچستان نیشنل موومنٹ(زرمبش) بلوچستان پیپلز پارٹی، عرب فرنٹ فار لبریشن آف الاحواز، کیمپین اگینسٹ کریمنلائیزنگ کمیونیٹیز اور 15 اپریل موومنٹ فار لبریشن آف الاحواز نے فری بلوچستان موومنٹ کے اتوار کو ہونے والےسیمینار میں شرکت کی۔
خان آف قلات، میر سلیمان داؤد نے کہا کہ بلوچستان ایک آزاد وطن تھا لیکن پاکستان نے اس پر غیر قانونی قبضہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ بلوچ نواب و سردار بھی پاکستان کے اس سازش کا حصہ بنے اور بلوچستان کی آزاد حیثیت کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ میر سلیمان داؤد نے مزید کہا کہ یہ ریکارڈ پر موجود ہے کہ بلوچستان (قلات اسٹیٹ) کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پاکستان میں شمولیت سے انکار کیا۔ بلوچستان (ریاست قلات) کے کئی حصے جنوبی اور شمالی سندھ اور ڈیرہ جات کی صورت میں انگریز حاکموں نے پہلے ہی بلوچستان سے کاٹ کر نومولود پاکستان میں غیر قانونی طریقے سے شامل کئے ۔
میر سلیمان داؤد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی نو آبادیاتی قوتوں نے پاکستان بنا کر اس کو مدد فراہم کی تاکہ بلوچوں کو کمزور کیا جا سکے اور بلوچستان کی آزادی کا خاتمہ ہوسکے۔
فری بلوچستان موومنٹ کے رکن شبیر بلوچ نے اپنا مقالمہ پڑھتے ہوئے کہا کہ ہر ملک اپنی جداگانہ و انوکھی شناخت سے جانا جاتا ہے۔ جاپان کو سورج کی زمین کہا جاتا ہے تو بلوچستان کو بہادر اور مہمان نواز لوگوں کی زمین کہا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے بلوچوں کے ساتھ معاہدات تھے مگر تمام معاہدات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان نے جیٹ، ٹینک اور فوجی دراندازی سے بلوچستان پر قبضہ کرلیا۔ پاکستان بلوچستان میں شدید قسم کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہا ہے جہاں کئی اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں مگر بلوچستان کی ابتر اور سنگین صورت حال پر نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں بے شرمی سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
نیشنز ودآؤٹ سٹیٹس کے چیرمین گراہم ویلیمسن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایک آزاد و خودمختار ملک تھا جو برطانیہ کے اس پر قبضے سے کئی سال پہلے کی تاریخ رکھتا ہے۔ برطانیہ نے بلوچستان سے کئی معاہدے بھی کئے تھے کہ مشکل اور مصیبت کے وقت برطانیہ بلوچستان کی مدد کریگا جن کا برطانیہ نے پاس نہیں رکھا بلکہ بلوچستان پر قبضہ کرنے کےلئے پاکستان کی مدد کی۔یہاں تک کہ برطانیہ نے سکاٹلینڈ کے لئے حق خودارادیت کے ریفرنڈم کا انعقاد کیا لیکن بلوچستان کے لئے یہ راستہ کبھی اختیار نہیں کیا گیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچوں کی آپسی اور دوسرے اقوام کے ساتھ اتحاد و اتفاق کامیابی کی کُنجی ہے۔
ڈمونٹفرڈ یونیورسٹی کے سابقہ لیکچرر ڈسمنڈ فرنانڈس نے کہا کہ پاکستان کی فوج بلوچستان میں کئی ضلعوں اور مختلف علاقوں کو اپنے محاصرے میں رکھتا ہے جہاں ان لوگوں تک کسی کو رسائی نہیں جن کا پاکستان مسلسل نسل کشی کر رہا ہے. مختلف شعبائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عام بلوچ لوگوں کا باقائدگی و بے دردی سے قتل عام ہو رہاہے. آخر میں فرنانڈز نے کہا کہ فوج کی عام معصوم بلوچ آبادیوں پر بمب باری سے پاکستان انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا مرتکب ہواہے.
عرب فرنٹ فار لبریشن آف الحواز کے رکن طاہر کریم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان جیسے مجرم ریاستوں کے ہاتھوں بلوچ اور دوسرے کئی اقلیتی اقوام نسل کشی جیسے جرائم کا سامنا کر رہے ہیں، اقوام متحدہ کا فرض ہے وہ ان جرائم پیشہ ریاستوں کے خلاف قدم اٹھائے۔
بلوچستان پیپلز پارٹی کے کارکن رحیم بندوی بلوچ نے اتحاد پر زور دیتےہوئے کہا کہ اتحاد ایک طاقت ہے جسکا عقلمندی کے ساتھ استعمال کرنا مظلوم اقوام کی ضرورت ہے۔ آج ہمارا دشمن ایک قبیلہ کو دوسرے قبیلہ کے خلاف استعمال کر رہاہےجسے دشمن پاکستان نے جلتی پر تیل ڈال کر شروع کی ہے، اس اندرونی تصادم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن ” تقسیم کرو اور حکمرانی کرو” کے پالیسی کے تحت اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کر رہاہے۔
بلوچستان راجی زرُمبش کے رکن اور معروف بلوچ ادبی شخصیت واجہ اسمائیل امیری نے کہا کہ گیارہ اگست کو ہمیں یوم یکجتی اور خوشی منانا چاہیے کیونکہ یہ ہمارا آزادی کا دن ہے اور ۲۷ مارچ کو ہمیں سیاہ دن کے طور پر یاد کرنا چاہیے کیوںکہ اسی دن ہم سے ہمارا قومی آزادی چینی گئی، ہمیں اپنے تحریک میں ان مشترکہ قومی علامات کو استعمال کرنا چاہیے جو ہمیں یکجاہ کرسکتے ہیں جیسا کہ بلوچستان کا قومی پرچم ہوا کیونکہ ان کے سائے تلے ہم سب متحد ہو سکتے ہیں۔
فری بلوچستان مومنٹ کے نائب صدر واجہ شہسوار کریمزادی نے کہا ۱۸۳۹ تک ہمارا اپنا آزاد ریاست تھا جسے برطانیہ نے بزور طاقت قبضے کے بعدبلوچستان کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔ انگریزوں نے جاتے ہوئے بلوچستان کو منقسم اور کمزور حالت میں چھوڑا، پھر اپنے گماشدہ غیرفطری ریاست پاکستان کو تمام عسکری طاقت تفویز کرتے ہوئے کہا وہ بلوچستان پر فوجی طاقت کے زور پر قبضہ کرلیں۔ پاکستان شروع سے ہی ایک دونمبری اور غیرفطری ریاست رہاہے جس نے اس خطے کی امن اور استحکام کو تباہ کر ڈالا ہے۔ اس نام نہاد انتہا پسند اسلامی ریاست کے وجود آنے کے بعد لاکھوں لوگ اپنی زندگیوں کو کھو بیٹھے ہیں۔
سیمنار کے اختتام پر فری بلوچستان مومنٹ نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سیمنار میں شریک ہوکر بلوچستان کے عوام کےساتھ اپنے یکجہتی کا ثبوت دیا۔


