کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے مرکزی ترجمان نے اگست کے مہینے کی مناسبت سے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچ تاریخ میں یہ ماہ غیر معمولی اہمیت کا عامل ہے کیونکہ بلوچ قومی تحریک کے موجودہ فیز کے شروع ہوتے ہی پاکستانی فورسز نے بربریت کی نئی مثالیں قائم کیں۔شاید اگست کے مہینے کو پاکستان بننے کامہینہ تصور کرکے اس میں بربریت کا سلسلہ تیز کیا جاتا ہے۔ اسلام کے نام پر بننے والی اس ملک نے اسلام کے تمام روایات کی بے دردی سے پامالی کی ہے۔ مذہبی اقلیتوں پر نہ صرف اپنے دین کی پرچار پر پابندی ہے بلکہ ان سے جینے کا حق بھی چھینا گیا ہے۔ ذگری، ہزارہ اور احمدیوں کو زیر کرنے یا زبردستی سنی فرقہ میں تبدیل کرنے کیلئے ان پر ریاستی مذہبی ڈیتھ اسکواڈ مسلسل حملہ کرتے رہتے ہیں جو آج نسل کشی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اسلام کسی کو غلام رکھنے کے خلاف ہے مگر یہاں پاکستان نے بلوچستان پر زبردستی قبضہ کرکے ایک پوری قوم کو ستر سالوں سے غلام بنائے رکھا ہے۔مرکزی ترجمان نے کہا کہ اگر ہم 2006 سے تاحال گیارہ سالوں میں نظر ڈالیں تو اس ماہ پاکستانی بربریت سے چار سو سے زائد بلوچ فرزند شہید ہوئے ہیں۔قومی آزادی اور تشخص کی جدو جہد میں عام بلوچ ادنیٰ سیاسی کارکن سے لے کر صف اول کے رہنما ء بے لوث قومی خدمت میں پیش پیش رہے اور قربانیاں دیتے رہے۔ اس ظلم، جبرو تسلط کیخلاف جدوجہد میں ہر ایک اپنی مثال آپ رہاہے ۔ قربانی کے اس جذبے اور انقلابی سرگرمیوں نے بلوچ جہد کو مزید بلندیوں تک پہنچایا ۔
ترجمان نے کہا کہ اگست کے مہینے میں بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر خان بگٹی ، ڈاکٹر خالد،دلجان ،الطاف بلوچ ، بی این ایم کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری رسول بخش ، بی این ایم کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات حاجی رزاق بلوچ، بی این ایم سی سی ممبر ساجد بلوچ ، بی ایس او آزاد کے سیکریٹری جنرل رضا جہانگیر اور بی این ایم کیچ کے ریجنل آرگنائز امداد بلوچ سمیت سینکڑوں فرندوں کو شہید کرنے کے ساتھ اگست 2014 کو آواران میں ذگرخانہ پر حملہ کرکے آئی ایس آئی و مذہبی شدت پسندوں نے 7 بلوچوں کو دوران عبادت شہید کر ڈالا۔ انہی لوگوں نے کوئٹہ میں بلوچ صحافیوں ارشاد مستوئی،عبدالرسول اور یونس بلوچ کو حق و سچائی بیان کرنے پر ان کے دفتر میں قتل کیا۔ اسی طرح اگست کے مہینے میں آزادی پسند مسلح تنظیموں کے کئی جان نثار قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ تمام شہداء کو سرخ سلام و خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔ بی این ایم کے کارکن شہدائے بلوچستان کی فکر و نظریہ کو اپنا رہنما بنائیں اور اُن کے مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے عوام کے ساتھ مل کر ان کی علمی، فکری،سیاسی تربیت کرکے انہیں علمی اور شعوری طور پر آزادبلوچستان کی جد و جہد کا حصہ بنائیں۔


