تل ابیب (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی پارلیمان نے اتوار کو نئی اتحادی حکومت کے قیام کی منظوری دے دی. 12 نتن یاہو کے اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔
دائیں بازو کے قوم پرست نفتالی بینیٹ نے نئے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا اور حکومت کی تبدیلی کی قیادت کی ہے۔
نئے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ سیاسی تعطل کے دو سالوں میں چار انتخابات میں حصہ لینے والی قوم کو متحد کریں گے۔
نئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت تمام لوگوں کے لیے کام کرے گی اور اس کی ترجیحات تعلیم صحت اور اصلاحات ہوں گی۔
اپنے خطاب نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ غم کا دن نہیں جمہوریت میں حکومت کی تبدیلی ہوتی ریتی ہیں
نئے وزیراعظم کہنا کا تھا کہ کسی کو بھی خوف محسوس کرنے کی ضرورت نہیں اور میں ان لوگوں سے کہوں گا جو آج رات کو جشن منانے والے ہیں کہ وہ لوگوں کی تکلیفوں پر ڈانس مت کریں۔ ہم دشمن نہیں ہیں ہم ایک لوگ ہیں
اقتدار کی شراکت سے متعلق معاہدے میں یامینا پارٹی کی سربراہی کرنے والے نفتالی بینیٹ، ستمبر 2023 تک اس عہدے پر فائز رہیں گے جبکہ مزید دو سالوں کےلیے اقتدار سینٹرسٹ یش اتید کے رہنما، یائیر لاپڈ کے حوالے ہوگا۔
نئی حکومت جو مختلف پارٹیوں کا اتحاد ہے صرف ایک نشست کی معمولی اکثریت رکھتی ہے۔پارلیمینٹ میں بحث کے دوران نتن یاہو نے وعدہ کیا کہ وہ واپس لوٹیں گے۔ انھوں نے ووٹ کے عمل کے بعد فتالی بینیٹ سے ہاتھ ملایا۔دوسری جانب فلسطینیوں کے نمائندوں نے نئی حکومت کو مسترد کر دیا ہے۔
فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’یہ اسرائیل کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہمارا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں


