اورماڑہ (ہمگام نیوز) سوشل میڈیا اطلاعات کے مطابق قابض پاکستانی فوج نیوی اورماڑہ یونٹ پی این ایس درمان جاہ ہسپتال میں پچھلے 9 سالوں سے خدمات سرانجام دینے والی ایک بلوچ خاتون کا آج سوشل میڈیا میں ایک وڈیو وائرل ہوا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہے کے پچھلے سال پی این ایس یونٹ کے ایک اہلکار نے مجھے جوس میں نشہ آور چیز پلا کر بے ہوش کرادیا اور بعد ازاں تشدد اور تصویریں بنائی اور انہی کے بنیاد پر مجھے ہروقت بلیک میل کیا جاتا رہا ہے ۔ جب میں نے ہسپتال انتظامیہ سے شکایت کی تو انہوں نے مجھے پہلے خاموش رہنے اور ایسا نہ کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی اور بلوچ بیٹی کی خاموش نہ ہونے کی صورت میں اسے تین ظالم افسران نے زبردستی ہسپتال سے باہر نکال کر گاڑی میں بھٹا کے کرسی سے باندھ کر مذید تشدد کرکے نوکری سے زبردستی فارغ کر دی ۔
اس مظلوم خاتون نے اپنے وڈیو پیغام کے ذریعے حکام بالا اور اعلی عدلیہ سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے ریاست پاکستان سے انصاف مانگ رہی ہے ۔
واضح رہے کہ اورماڑہ کا یہ PNS Darman Jah ہسپتال نیوی کے زیر انتطام ہیں ۔اور یہاں
پنچاب اور دیگر صوبوں سے آنے والے اہلکار مقامی لوگوں سے بدترین ظلم روا رکھے ہوئے ہیں۔


