جب فکر داد و تحسین کی غلام بن جائے۔

جارج آرویل نے کہا تھا کہ اگر آزادی کا کوئ مطلب ہے تو یہ ہے کہ لوگوں کو وہ بات سنائ جاۓ جو وہ سننا نہیں چاہتے ، بات سیدھی سی ہے کہ گر بلوچ دانشوروں کو شمار کیا جاۓ تو ان کی تعداد بمشکل انگلیوں پہ گنی جاسکتی ہے ۔ تین یا چار ۔ لیکن جب انہی معدودے چند افراد کی فکری گہرائ ، وسعت نظر اور قومی فکر کی پختگی کا جائزہ لیا جاۓ تو ایک مایوسی ہاتھ آتی ہے ، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دانشوری ان کے کاندھوں پر نہ صرف بوجھ ہے بلکہ رفتہ رفتہ ان کے قدموں کو لڑکھڑانے کا باعث بھی بن رہاہے، نہ تو یہ دانشور حضرات کسی بات کی تہہ تک پہنچ پاتے ہیں نہ ہی سوچ کی نئی راہیں تلاش کرتے ہیں ،فلسفیانہ موضوعات اور گہرائ میں جانے سے گریزاں یہ حضرات محض سطحی مباحث میں الجھ کر اپنی علمی کمزوریوں پہ پردہ ڈالنے کی کوشںش کرتے ہیں ان کی تحریریں ، تقریریں اور سوشل میڈیا پہ گفتگو نہ تو قوم کے اجتماعی شعور کو جلا بخشتی ہے اور نہ ہی کسی ٹھوس سمت کی نشان دہی کرتی ہیں ۔ بلکہ ہر کوئ اپنی “ڈیڑھ اینٹ کی مسجد” میں مصروفِ خطابت دکھائ دیتا ہے ، ایک محدود دائرے میں گردش کرتی ہوئی جذباتی باتیں جن میں بلوچ قومی مسئلے کی کلیت کی بجاۓمحض جزئیات پہ زور دیا جاتا ہے اور انہی جزئیات میں اپنی فکری پیاس بجھانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔

یہ طرز فکر دانشوری کے بجاۓ ایک قسم کی فکری نارسائ اور خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ گر یہ واقعی دانشور ہوتے تو ان کی فکر و تحریر ریاستی بیانیے کے مقابل ایک مضبوط اور مربوط قومی بیانیے کی صورت میں سامنے آتی جو سچائ اور اصول سے لبریز ہوتا ، مگر افسوس کہ اکثر اوقات یہی دانشور حضرات ریاستی بیانیے کے لہروں کے ساتھ خود بہتے دکھائ دیتے ہیں ، یہاں تک کہ بغض معاویہ میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی تیز دھار کوششوں میں مصروف ان دانشوروں کا” پارٹی ، تنظیم، گروہ بندی” ، “قوم ، نظریہ ، وطن” پہ بھاری پڑجاتی ہیں ، یہ صورت حال کہیں کہیں فکری افلاس کا نتیجہ کا نظر آتا ہے تو کہیں فکری بد دیانتی ان کے قول و فعل کے تضادات میں نمایاں جھلکتی ہیں۔قوموں کی فکری راہنمائی کا جو کردار ایک دانشور کو ادا کرنا چاہیے بدقسمتی سے وہ کردار بلوچ دانشور نہ نبھا سکے ، قومی فکر بقول شخصے بدقسمتی سے دانشوروں کی قلم کی روشنائ سے زیادہ شہیدوں کی لہو کی مرہون منت ہے۔

جہاں دیگر میدانوں میں مسابقت کی ایک دوڑ لگی ہوئ ہے وہاں قلم کار کیسے دوڑ سے پیچھے رہ سکتے ہیں؟ اسٹیج پہ جلوہ افروزی ہو، یا کتابوں کی اشاعت کی دوڑ ہو، یا سوشل میڈیا “خاص طور پہ ایکس ٹوئیٹر” پہ فین فالوونگ کا چکر ہو ایک ہڑبونگ مچی ہوئ ہے ،اسی طرح فوٹو سیشن کا ایسا شور ہے کہ نواب مری کی تعزیتی ریفرنس میں ان کے افکار سے زیادہ کیمروں کی چمک دکھائ دے رہی تھی گویا کوئ فلم کی شوٹنگ چل رہی ہو ۔ حد یہ کہ ایک ہی مواد کو مختلف ٹائٹل دے دے کر کتابوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے ، انکی اشاعت کے لئے ریاستی اہلکاروں کی کاسہ لیسی کی ایک الگ لمبی داستان ہے ، کتابوں کے مقدمات میں کتاب کے مواد کو بالاۓ طاق رکھ کر مصنفین کے صفت و ثناء کے ایسے پل باندھے جاتے ہیں کہ بندہ حیراں رہ جاتا ہے ۔ یوں سمجھ لیجیے کہ انگلی کٹا کر شہیدوں کے صف میں شامل ہونے کی ایک دوڑ لگی ہوئ ہے گویا ایک موج میلہ ہے جہاں دانشور حضرات داد و تحسین کے طلبگار نظر آتے ہیں۔

اسی طرح مارکسزم کی منجن نیشنل ازم کے خون ریز قربانیوں کی بدولت بھیجی جا رہی ہے ، یہ نعرہ کہ “ آج بلوچ سیاست میں جو تبدیلی آئ ہے وہ مڈل کلاس تحریک کی وجہ سے ہے “ اب بندہ پوچھے اس نام کی تحریک بلوچ وطن بشمول ایران و افغانستان کہاں پہ چل رہی ہے؟ لیکن سرخ سلام ہے ایسے کامریڈ قلم کار کے اعتماد کو کہ کس کانفیڈنس لیول سے فکری بددیانتی کرکے تاریخ کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی بے سود کوشش کررہے ہیں۔

نواب مری نے ایک بار کہا تھا کہ بلوچ میڈیا کاروباری میڈیا بن چکا ہے ، گر کسی کو اس بات پہ شک ہے تو ایک بلوچ قومی دانشور کا پاکستان انڈیا جنگ پہ لکھا گیا حالیہ یک کالمی تجزیہ پڑھ لیں ، تو کاروبار اور میڈیا کے باہمی تعلق کا بہتر اندازہ ہوجائیگا اگر اس کالم سے مصنف کا نام ہٹا کر پڑھا جاۓ تو قاری کو لگے گا کہ یہ بلوچ قومی دانشور کے بجاۓ کسی زید حامد (لال ٹوپی والا ) کی تحریر ہے جس میں پاکستان کی دفاعی نظام کو اس قدر عظیم الشان بیان کیا گیا ہے کہ گویا پاکستان نے ہندوستان کو ناکوں چنے چپوا دیے گئے ہوں ، پیپلز پارٹی کا یہ پرانا جیالا جو بھٹو کے ساتھ رہ کر اینٹی سردار مہم کا حصہ رہا ہے اس کالم میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار بنتا نظر آتا ہے، نجی مجالس میں یہ کہتے ہوۓ سنا گیا ہے کہ بلوچ قوم دانشوروں کی قدر نہیں کرتی ، شاید وہ بے قدری کی وجہ سے اس نتیجے پہ پہنچ گیا ہے کہ کاروبار کی فراوانی ہی اصل بات ہے باقی صرف کہنے اور سننے کی باتیں ہیں ۔ اسی طرح دوسری طرف بیرون ملک میں بیٹھے ہوۓ اکیڈمیاء میں کچھ حضرات نے سوچا کہ وہ جتنا لکھ سکتے تھے لکھ چکے، اور کچھ اب بھی کارگذاری کررہے ہیں ، لیکن یہ کارگذار دانشور حضرات بد قسمتی سے علاقائی و کالونائزیشن کے جراثیم سے گلو خلاصی نہ کرسکے ، وہ “حمل ءِ ھمراہ بے دلیں دشتی بوتگ انت” کو جواز دینے کے لیےبلوچی ادب کی بجائے کالونایزر کے لکھاریوں کو دل دے بیٹھے ہیں یقینا تاریخ و لٹریچر پڑھنے سے شاہد دانش کے نام پہ ایسے المیے جنم نہ لیتے بلکہ دانش موج میلوں سے ہٹ کر اپنی فکر کو داد تحسین کی غلام بناۓ بغیر لوگوں کے سامنے وہی سچ رکھتے جو وہ سننا نہیں چاہتے، چاہے اس کے لے انہیں تنہائ کے دشت ویران سے کیوں نہ گذرنا پڑتا لیکن کیا کریں بقول جون ایلیاء “جنہیں پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہے ہیں “