شال: (ہمگام نیوز) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پرامن سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی ریاستی بربریت کا تسلسل ہے، جس سے بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مزید بے نقاب ہو رہی ہیں۔
ترجمان کے مطابق بی ایس او مستونگ زون کے سینئر رہنما غلام علی بلوچ ولد شہید ماما حکیم بلوچ کو 22 جون بروز اتوار کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغوا کرکے لاپتہ کردیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ غلام علی بلوچ ایک پرامن سیاسی کارکن ہیں، جو طلبہ سیاست اور بلوچ قومی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی جبری گمشدگی نہ صرف بلوچ طلبہ کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ یہ اقدام ریاستی اداروں کی جمہوریت اور بنیادی انسانی اقدار سے دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔
بی ایس او نے غلام علی بلوچ کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کے اداروں، سیاسی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچ سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔


