دُکی (ہمگام نیوز)مقبوضہ بلوچستان کے علاقے دُکی میں قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جعلی مقابلے میں شہید کیے گئے تینوں بلوچ فرزندوں کی شناخت ہوگئی ہے، جنہیں مختلف اوقات میں کوہلو اور بارکھان سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق:

صوبت مری ولد قمیس مری

صوبت مری کو حالیہ دنوں بارکھان بازار کے قریب مویشی منڈی سے دن دہاڑے خفیہ اداروں نے اغوا کیا۔ اس واقعے کے درجنوں عینی شاہد موجود ہیں۔ صوبت مری کی جبری گمشدگی کی تصدیق مقامی ذرائع و گواہان نے اس وقت بھی کی تھی، جب اسے قابض فورسز کی گاڑی میں لے جایا جا رہا تھا۔

وزیر خان مری ولد ریحان مری (شاعر)

وزیر خان مری کا تعلق چمالنگ کے علاقے کالی کوچ سے تھا۔ قابض فورسز کی جانب سے انہیں تفتیش کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا گیا، جس پر وہ کینٹ گئے اور وہاں سے لاپتہ کر دیے گئے۔ بعد ازاں انہیں بھی جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔

 حیدر علی مری ولد وزیر حمد مری

حیدر علی کو 24 مئی 2025 کی شام بارکھان و کوہلو کے سنگم پر واقع ایف سی چیک پوسٹ سے محض 200 میٹر اور ماشاءاللہ ہوٹل سے 500 میٹر کے فاصلے پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ وہ پیشے سے کسان تھے اور بارکھان میں رہائش پذیر تھے، لیکن روزانہ اپنی آبائی زمین پر کھیتی باڑی کے لیے کوہلو جاتے تھے۔

جب انہیں اغوا کیا گیا، اُس وقت وہ اپنے کم عمر بھتیجے کے ساتھ موٹرسائیکل پر سوار تھے۔ اغوا کے دوران مزاحمت پر خفیہ اداروں کی کالے رنگ کی پراڈو گاڑی کا پچھلا شیشہ پتھر لگنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ حیدر کے اہلِ خانہ نے رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کیں اور اداروں کی جانب سے یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی کہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا، مگر بالآخر جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا۔

قابض فورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ تینوں افراد ایک مسلح جھڑپ میں مارے گئے، مگر حسبِ سابق یہ دعویٰ بھی جھوٹا ثابت ہوا کیونکہ شہید افراد طویل عرصے سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔