کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ بلوچستان سے باہر بیٹھے بلوچوں کی جدو جہد و خدمات ہر وقت جد و جہد میں مثبت ثابت ہوتی ہیں ایسے حالات میں جب ریاست نے بلوچوں پر تمام سیاسی، ادبی و علمی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی لگائی ہے تو بیرون ملک رہائش پذیر بلوچ ایک اہم کردار ادا سکتے ہیں اس سلسلے کو وسعت دیتے ہوئے آج بی این ایم کے خارجہ سیکرٹری حمل حیدر بلوچ کی صدارت میں افغان ریجن کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں افغان ریجن کیلئے ایک کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے کمیٹی کے کنوینر سہراب بلوچ، ڈپٹی کنوینر نورا بلوچ اورکمیٹی کے ممبران حمل بلوچ، شیہک بلوچ، عومر بلوچ اور فرہاد بلوچ منتخب ہوئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حمل حیدر بلوچ نے کہا کہ آج بلوچوں کی ایک بہت بڑی تعداد بیرون ملک آباد ہے اوربلوچستان کے حالات سے باخبر رہ کر تحریک میں کردار ادا کررہے ہیں افغان ریجن میں بلوچوں کی ایک بڑی تعداد شہریت رکھتے ہیں اور ہزاروں سالوں سے یہاں آباد ہیں امید ہے یہ کمیٹی افغان ریجن میں بی این ایم کو فعال کرکے بلوچ قومی تحریک میں اہم کردار ادا کرے گا آج دنیا کی نظریں بلوچستان پر لگی ہوئی ہیں اور ریاست سمیت کئی ممالک یہاں مختلف سازشوں کے تحت ترقی کے نام پر غیر بلوچوں کو آباد کرنے کی منصوبوں میں مصروف ہیں تاکہ بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرکے یہاں کے وسائل کو لوٹ سکیں چائنا ریاست کے ساتھ مل کر بلوچستان میں گوادر پر قبضہ کرکے یہاں ایک نیول بیس قائم کرکے خطے میں طاقتور بننے کی کوششوں میں مصروف ہے حمل حیدر بلوچ نے کہا کہ دوسری طرف ریاست بلوچستان و دوسرے ہمسایہ ممالک میں اپنے پالے ہوئے جہادیوں کے ذریعے پہلے ہی اس ریجن میں عدم استحکام پھیلا چکاہے بلوچستان میں فورسز کا ظلم و جبر عروج پر ہے اورادارے کنٹرولڈ میڈیا میں ان مظالم کا کوئی ذکر نہیں ہوتاہے جبکہ بین الاقوامی میڈیا پرسنز و انسانی حقوق کے اداروں پر بلوچستان داخلے پر پابندی عائد ہے ایسے میں افغان ریجن سمیت تمام بیرونی کمیٹیوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کرنے میں شب و روز کام کریں مرکزی ترجمان نے کہا کہ آج مشکے کے علاقے منجو میں فورسز کی کارروائیوں کے دوران حمل بلوچ، اللہ بخش ولد جمل، نیک جان ولد ہیبت ، عبدالرحیم اور رحیم بخش کے گھروں کو جلا کر خاکستر کردیا گیا عورتوں اور بچوں کو ہراسان کرکے سردی میں کھلے آسمان رہنے پر مجبور کر دیا گیاہے اس کے علاوہ جھاؤ کے علاقے ڈولیجی میں کارروائی کی اطلاعات ہیں مگر مواصلات کا نظام نہ ہونے کہ وجہ سے معلومات ممکن نہیں ہو سکیں۔


