دزاپ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے مرکزی شہر دزاپ کے مستقل باشندہ کوقابض ایرانی فورسز نے جمعرات 13 نومبر 2025کو بغیر شناختی کارڈ کے صوبہ گلستان ساری شہر سے گرفتار کرکے اور پھر قانونی طریقہ کار سے گزرے بغیر “غیر ملکی شہری” کے طور پر ڈوگرون بارڈر پر منتقل کر کے افغانستان بھیج دیا گیا۔
ڈی پورٹ ہونے کے بعد یہ شہری غائب ہو گیا اور اس کے حالات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
لاپتہ نوجوان بلوچ شہری کی شناخت “محمود صفرزئی، عمر 24 سال ولد خدا رحم، شادی شدہ ایک بچہ ہے، زاہدان کا رہنے والا اور گورگان کا رہائشی ہے سے ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق: “محمود صفرزئی کو جمعرات 13 نومبر 2025 کو ساری سے گرفتار کیا گیا تھا اور 16 نومبر بروز سوموار کو قابض ایرانی پولیس نے اسے گورگان سے ڈوگرون بارڈر منتقل کیا اور منگل کو اسی بارڈر سے اسے افغانستان بھیج دیا گیا، جس لمحے سے وہ افغان سرزمین میں داخل ہوا ہے، اس وقت سے ان کے خاندان کو بڑی تشویش کا سامنا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق محمود جس کا افغانستان سے کوئی شہریت یا تعلق نہیں ہے، اس کے ساتھ ایک غیر ملکی شہری جیسا سلوک کیا گیا کیونکہ اس کے پاس ایرانی شناختی کارڈ نہیں تھا۔
اس بلوچ شہری کے رشتہ داروں نے کہا ہے کہ اسے غلطی سے اور حقیقت کے برعکس ایک “افغان شہری” کے طور پر گرفتار کیا گیا اور ملک بدر کر دیا گیا،حالاں تحقیق کرنا چاہئے تھا کہ وہ اسی سرزمین کا باشندہ ہے اسے کسی اور ملک حراست میں لیکر بھیجنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔
واضح رہے گزشتہ چند ماہ میں ایرانی شناختی کارڈ کے بغیر سینکڑوں بلوچ شہریوں کو، جو کہ اصل میں ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے رہائشی ہیں، کو ایرانی فورسز نے گرفتار کر کے افغانستان بھیج دیا ہے، جہاں وہ افغان دستاویزات اور پناہ گاہ نہ ہونے کی وجہ سے مشکل اور انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔















