کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے بلوچستان کے علاقے پسنی سے کئی سالوں سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے سیاسی کارکنوں کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کی کاروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ترجمان نے کہا کہ سالوں سے سیاسی کارکنوں کا اغواءو بغےر کسی عدالتی کاروائی کے ان کا حراستی قتل بلوچ معاشرے میں خوف و حراس پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ کیوں کہ اس طرح کی کاروائیوں کے سے عام لوگ احساسِ عدم تحفظ و بے یقینی کا شکار ہو رہے ہیں۔ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگےن خلاف ورزیاں روز بہ روز انتہائی شدت اختےار کررہے ہیں۔ لوگوں کو بغےر مقدمات کے لاپتہ کرنا، بغےر کسی قانونی کاروائی کے ان کی حراستی قتل سمیت بلوچ علاقوں میں آپریشن کے نام پر بغےر کسی احتےاط کے سول آبادیوں کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں انسانی حقوق کی صورت حال کو انتہائی ابتر بنا چکے ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے جاری بولان، مشکے، جھاﺅ و آواران کے علاقوں میں آپریشن کے دوران سینکڑوں لوگوں کو اغواءو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ کئی گھروں کو جلایا جا چکا ہے۔ ایک ہفتہ قبل مشکے بازار سے ایک درجن کے قریب دکانداروں کو فورسز نے سرعام اغواءکیا تھا جو کہ تاحال ان کی تحویل میں ہیں۔ فورسز کی تحویل میں موجود لوگوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی زندگےوں کے حوالے انتہائی پریشانی و ذہنی اذےت کا شکار ہیں،کیوں کہ فورسز بغےر کسی قانونی کاروائی تسلسل کے ساتھ مغویوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کی کاروائیوں میں ملوث ہیں۔بی ایچ آر او نے زمہ دار اداروں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں طاقت استعمال کرنے کی کاروائیاں روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں، کیوں کہ بلا احتےاط و بغےر کسی تفریق کے ہونے والی ان کاروائیوں بڑی تعداد میں نہتے لوگ متاثر ہور ہے ہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں فورسز کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے ہزاروں لوگوں کی بہ حفاظت بازیابی کے لئے اپنا کردار اد کریں۔


