زاہدان (ھمگام نیوز) ذرائع کے مطابق، منگل کی شام 9 جون 2026 کو دارالعلوم مکی زاہدان کے مدرس مولوی عبدالعزیز عمرزہی کو قابض ایرانی انٹیلی جنس ادارے (ادارہ اطلاعات) کے سادہ لباس اہلکاروں نے زاہدان میں گرفتار کر لیا۔
ذرائع کے مطابق مولوی عبدالعزیز عمرزہی شام تقریباً 6:30 بجے مسجد مکی سے نکل کر اپنے گھر جا رہے تھے کہ راستے میں خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے انہیں روک کر مبینہ طور پر توہین آمیز رویے کے ساتھ حراست میں لے لیا۔ رپورٹ مرتب ہونے تک ان کی جسمانی حالت، مقامِ حراست اور ان پر عائد کیے گئے ممکنہ الزامات کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
مولوی عبدالعزیز عمرزہی اس سے قبل بھی زاہدان کے معروف واقعے “خونین جمعہ” کے بعد قابض ایرانی سیکیورٹی اداروں کے ہاتھوں گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس وقت نہ صرف انہیں حراست میں لیا گیا تھا بلکہ ان کی اور ان کے بعض اہل خانہ کی شناختی دستاویزات بھی ضبط کر لی گئی تھیں، جبکہ ان پر مختلف انتظامی اور سماجی پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں۔ بعد ازاں خاندانی کوششوں کے نتیجے میں انہیں رہا کر دیا گیا، تاہم انہیں تدریسی سرگرمیوں اور دارالعلوم مکی کے ساتھ تعاون جاری رکھنے سے محروم کر دیا گیا۔
کسی شخص کو باضابطہ الزام عائد کیے بغیر گرفتار کرنا، فوری قانونی معاونت سے محروم رکھنا، اہل خانہ کو مقامِ حراست سے لاعلم رکھنا اور زیرِ حراست افراد کو رابطے کے حق سے محروم کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں اور منصفانہ عدالتی کارروائی کے تقاضوں کے منافی ہے، جن کی ضمانت بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) میں دی گئی ہے، جس کا ایران بھی فریق ہے۔
جمع شدہ اعداد و شمار کے مطابق، بلوچستان میں صرف سال 2025 کے دوران کم از کم 978 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں 394 افراد ایسے تھے جن کے پاس شناختی دستاویزات یا قومی شناختی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ اسی عرصے کے دوران 19 اجتماعی گرفتاریوں کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے، جن میں ایک سے زائد افراد کو بیک وقت حراست میں لیا گیا، جبکہ 12 واقعات میں ایک ہی کارروائی کے دوران پانچ سے زیادہ افراد گرفتار کیے گئے۔


