Homeخبریںڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی قانونی ٹیم کا کھلی عدالت میں ٹرائل کا...

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کی قانونی ٹیم کا کھلی عدالت میں ٹرائل کا مطالبہ، ویڈیو اور جیل ٹرائل پر سنگین آئینی اعتراضات ۔ پریس کانفرنس

شال(ھمگام نیوز) ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی قانونی ٹیم کی جانب سے ہم آج ایک اہم پریس کانفرنس کے ذریعے عوام، میڈیا، وکلاء برادری، انسانی حقوق کے اداروں اور متعلقہ حکام کی توجہ اُن سنگین قانونی اور آئینی خدشات کی جانب مبذول کروا رہے ہے جو زیر حراست ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے مقدمات کی کارروائی کے دوران مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔

ہم شدید تشویش کے ساتھ یہ بات اجاگر کرتے ہیں کہ چودہ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو شفاف، منصفانہ اور کھلی عدالتی کارروائی تک مؤثر رسائی فراہم نہیں کی گئی۔ اس دوران مقدمات کی نوعیت اور عدالتی طریقۂ کار میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں۔ ابتدا میں انتظامی حراست، بعد ازاں مختلف مقدمات کا اندراج، مسلسل جسمانی ریمانڈ، جیل ٹرائل، اور اب ویڈیو لنک کے ذریعے ٹرائل جیسے اقدامات اس سلسلے کا حصہ رہے ہیں۔

قانونی و بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عدالتی کارروائی نہ صرف منصفانہ ہو بلکہ منصفانہ نظر بھی آئے۔ کھلی عدالت میں سماعت، عوامی نگرانی اور شفاف عدالتی عمل منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصول ہیں۔ جیل ٹرائل کے بعد اب مقدمات کی کارروائی کو ویڈیو لنک کے ذریعے چلانے سے شفافیت اور عوامی رسائی مزید محدود ہو گئی ہے، جس کے باعث مقدمات کے منصفانہ انعقاد کے حوالے سے سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ برس متعارف کرائے گئے “فیس لیس کورٹس” کے نظام پر بھی سنجیدہ قانونی اور آئینی تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس نظام میں عدالتی کارروائی روایتی کھلی سماعت سے ہٹ کر محدود اور فاصلاتی طریقۂ کار کے تحت انجام دی جاتی ہے، جس کے باعث شفافیت، عوامی نگرانی اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ اور اب آنلائن ٹرائل کے زریعے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے فیس لیس کورٹ میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ ان خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔

ہم یہ بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ زیرِ حراست رہنماؤں نے جیل ٹرائل کے دوران عدالتی ماحول اور عدالتی رویے سے متعلق متعدد بار تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہی تحفظات کی بنیاد پر متعلقہ جج کی تبدیلی کے لیے باقاعدہ قانونی درخواست عدالت میں دائر کی جا چکی ہے، جس پر فوری اور منصفانہ سماعت ناگزیر ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ یہ درخواست چار ماہ قبل دائر کیے جانے کے باوجود تاحال زیرِ التواء ہے، حالانکہ ایسے معاملات میں فوری سماعت انصاف کے تقاضوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

قانونی ٹیم کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ مقدمات کی سماعت کے دوران عدالتی غیرجانبداری کے اصول متاثر ہو رہے ہیں۔ مزید برآں، گزشتہ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل سرکاری وکیل کے ساتھ موجود تھے جنہوں نے جج پر انتہائی سخت لہجہ اپنایا اور انہیں جلد از جلد سزا سنانے کے لیے پریشان کیا، جس کے باعث منصفانہ ٹرائل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

مزید یہ کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دفعہ 144 سے متعلق درج پندرہ سے زائد مقدمات بھی موجود ہیں۔ ان مقدمات کو بھی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) میں منتقل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ زیرِ حراست رہنماؤں کی قید اور قانونی کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول دیا جا سکتا ہے۔

اس وقت ڈاکٹر ماہرنگ اور ان کے ساتھی جیل کے اندر ویڈیو ٹرائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان کے مقدمات کی سماعت آئین اور قانون کے مطابق کھلی عدالت میں ہونی چاہیے۔ بطور وکلاء ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے مؤکلین کے قانونی، آئینی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی فورم پر آواز بلند کریں۔

ہم اس پریس کانفرنس کے توسط سے اپنے مطالبات کا اعلان کرتے ہے کہ :

• آن لائن اور جیل ٹرائل کا فوری خاتمہ کیا جائے اور مقدمات کی سماعت کھلی عدالت میں منتقل کی جائے تاکہ عدالتی کارروائی شفاف، قابلِ نگرانی اور عوامی رسائی کے اصولوں کے مطابق ہو۔

• جج کی تبدیلی سے متعلق دائر درخواست پر فوری سماعت کی جائے اور عدالتی غیرجانبداری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت کسی غیرجانبدار جج کے سپرد کی جائے۔

• جج کی تبدیلی سے متعلق درخواست کے فیصلے تک مقدمات کی مزید کارروائی روکی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے متاثر نہ ہوں اور فریقین کا اعتماد برقرار رہے۔

• ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ اور ان ساتھیوں کے قانونی حقوق، وکلاء تک رسائی اور اہلِ خانہ سے رابطے کو یقینی بنایا جائے، جبکہ مقدمات کو غیر ضروری طوالت دینے والے تمام اقدامات کا خاتمہ کیا جائے۔

ہم پاکستان کی وکلاء برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، صحافتی اداروں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور منصفانہ ٹرائل، عدالتی شفافیت اور بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں۔

انصاف کی فراہمی صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ اور قانون کی حکمرانی کا بنیادی پیمانہ بھی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ متعلقہ ریاستی حکام اس معاملے میں فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں، بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد برقرار رہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز